حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 9
۹ دین کی طرف صحیح اور سچ بات یہی ہے ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گران تھا اس لئے اُن کے حکم سے جو عین میری منشا کے موافق تھا میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم اور صلوٰۃ کے پابند ہوں اور جوان نا جائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلاء کے طور پر ان کو پیش آتے رہتے ہیں۔میں ہمیشہ اُن کے مُنہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہو یا حرام کے ذریعہ سے محدود تھیں اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے مصروف پائیں۔میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ علم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پر ہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں بلکہ بہتوں کو تکبر اور بد چلنی اور لا پروائی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا اور بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے۔من پہر جمعیت نالاں شدم شدم جفت خوش حالاں و بدحالاں کسی از ظن خود شد یار من ہر و از درون من نخست اسرار من سے اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور انہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں (بنسری کہتی ہے) میں نے ہر مجلس میں اپنا رونا رویا اور برے بھلے ہر قسم کے لوگوں کی صحبت میں رہی۔ہر شخص اپنے ظن کی بنا پر ہی میرا دوست بنا لیکن کسی نے میرے دل کے بھیدوں کے جانے کی کوشش نہ کی۔