حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 179
129 فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکیت تم پر اترے گی اور رُوح القدس سے مدد دئیے جاؤ گے اور خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہو گا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔گالیاں سنو اور چپ رہو۔ماریں کھاؤ اور صبر کرو۔اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پر ہیز کروتا آسمان پر تمہاری مقبولیت لکھی جاوے۔یقیناً یا د رکھو کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل اُون کے خدا کے خوف سے پکھل جاتے ہیں اورنہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے اور وہ اون کے دشمنوں کا دشمن ہو جاتا ہے۔دنیا صادق کو نہیں دیکھتی پر خدا جو علیم و خبیر ہے وہ صادق کو دیکھ لیتا ہے پس اپنے ہاتھ سے اوس کو بچاتا ہے۔کیا وہ شخص جو بچے دل سے تم سے پیار کرتا ہے اور بچ بچ تمہارے لئے مرنے کو بھی طیار ہوتا ہے اور تمہارے منشاء کے موافق تمہاری اطاعت کرتا ہے۔اور تمہارے لئے سب کچھ چھوڑتا ہے کیا تم اوس سے پیار نہیں کرتے ؟ اور کیا تم اس کو سب سے عزیز نہیں سمجھتے ؟ پس جبکہ تم انسان ہو کر پیار کے بدلہ میں پیار کرتے ہو پھر کیونکر خدا نہیں کرے گا۔خدا خوب جانتا ہے کہ واقعی اوس کا وفادار دوست کون ہے اور کون غدار اور دنیا کو مقدم رکھنے والا ہے۔سو تم اگر ایسے وفادار ہو جاؤ گے تو تم میں اور تمہارے غیروں میں خدا کا ہاتھ ایک فرق قائم کر کے دکھلائے گا۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۸) میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلہ ء بیعت میں داخل ہیں وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں ان کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کر سکوں بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کو میرا خداوند جو میرا متولی ہے مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔بعض ایسے بھی ہیں کہ اوّل اُن میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بلعم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں۔اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔وہ تھک گئے اور درماندہ ہو گئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ایسے بھی بہت ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے اور وہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰) یہ عاجز اگر چہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی