حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 178
KA اس سے دشمنی کی ہے سو چونکہ تم سچائی کے وارث ہو ضرور ہے کہ تم سے بھی دشمنی کریں۔سو خبر دار رہو۔نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ہر ایک سختی کی برداشت کرو۔ہر ایک گالی کا نرمی سے جواب دو تا آسمان پر تمہارے لئے اجر لکھا جاوے۔تمہیں چاہئے کہ آریوں کے رشیوں اور بزرگوں کی نسبت ہر گز سختی کے الفاظ استعمال نہ کرو تا وہ بھی خدائے قدوس اور اس کے رسول پاک کو گالیاں نہ دیں کیونکہ ان کو معرفت نہیں دی گئی اس لئے وہ نہیں جانتے کہ کس کو گالیاں دیتے ہیں۔یاد رکھو کہ ہر ایک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈہ ہوتا ہے بجز اس کے اور کچھ نہیں۔پس اگر تم رُوح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دوتب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے۔اور آسمان پر تم دنیا کے لئے ایک مفید چیز سمجھے جاؤ گے اور تمہاری عمر میں بڑھائی جائیں گی۔تمسخر سے بات نہ کرو اور ٹھٹھے سے کام نہ لو۔اور چاہئے کہ سفلہ پن اور او باش پن کا تمہارے کلام پر کچھ رنگ نہ ہو تا حکمت کا چشمہ تم پر کھلے۔حکمت کی باتیں دلوں کو فتح کرتی ہیں لیکن تمسخر اور سفاہت کی باتیں فساد پھیلاتی ہیں۔جہاں تک ممکن ہو سکے سچی باتوں کو نرمی کے لباس میں بتاؤ تا سامعین کے لئے موجب ملال نہ ہوں۔جو شخص حقیقت کو نہیں سوچتا اور نفس سرکش کا بندہ ہو کر بد زبانی کرتا ہے اور شرارت کے منصوبے جوڑتا ہے وہ ناپاک ہے۔اوس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اس کے منہ پر جاری ہوتی ہے۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی راہیں تم پر کھلیں تو نفسانی جوشوں سے دور رہو اور کھیل بازی کے طور پر بخشیں مت کرو کہ یہ کچھ چیز نہیں اور وقت ضائع کرنا ہے۔بدی کا جواب بدی کے ساتھ مت دو نہ قول سے نہ فعل سے تا خدا تمہاری حمایت کرے اور چاہیئے کہ دردمند دل کے ساتھ سچائی کو لوگوں کے سامنے پیش کرو نہ ٹھٹھے اور ہنسی سے۔کیونکہ مردہ ہے وہ دل جو ٹھٹھا نسی اپنا طریق رکھتا ہے۔اور ناپاک ہے وہ نفس جو حکمت اور سچائی کے طریق کو نہ آپ اختیار کرتا ہے اور نہ دوسرے کو اختیار کرنے دیتا ہے سو تم اگر پاک علم کے وارث بننا چاہتے ہو تو نفسانی جوش سے کوئی بات منہ سے مت نکالو کہ ایسی بات حکمت اور معرفت سے خالی ہوگی اور سفلہ اور کمینہ لوگوں اور اوباشوں کی طرح نہ چا ہو کہ دشمن کو خواہ نخواہ ہتک آمیز اور تمسخر کا جواب دیا جاوے بلکہ دل کی راستی سے سچا اور پر حکمت جواب دو تا تم آسمانی اسرار کے وارث ٹھہرو۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۶۳ تا ۳۶۶) تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو