حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 177
122 لَا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس بد بخت نہیں ہوتا۔یہ خلاصہ ہے الہی تعلیم کا جو تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللهِ میں پیش کی گئی ہے۔( الحکم ۷ ار اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۵ ۶ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۶۹،۶۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) واضح ہو کہ آج آریہ سماج قادیان کی طرف سے میری نظر سے ایک اشتہار گذرا جس پر سات فروری ۱۹۰۳ء تاریخ لکھی ہے اور مطبع چشمہ نور پریس امرتسر میں چھپا ہے جس کا عنوان اشتہار پر یہ لکھا ہے ” کا دیانی پوپ کے چیلوں کی ایک ڈینگ کا جواب“ اس اشتہار میں ہمارے سید و مولیٰ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور میری نسبت اور میرے معزز احباب جماعت کی نسبت اس قدر سخت الفاظ اور گالیاں استعمال کی ہیں کہ بظاہر یہی دل چاہتا تھا کہ ایسے لوگوں کو مخاطب نہ کیا جاوے مگر خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور میں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں میں اکیلا نہیں۔سوئیں اپنے خدا سے قوت پا کر اٹھا اور اُس کی رُوح کی تائید سے میں نے اس رسالہ کو لکھا اور جیسا کہ خدا نے مجھے تائید دی میں نے یہی چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبی مطاع کو اور مجھے دی گئیں نظر انداز کر کے نرمی سے جواب لکھوں اور پھر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کے سپرد کر دوں۔مگر قبل اس کے کہ میں اس اشتہار کا جواب لکھوں اپنی جماعت کے لوگوں کو صیحا کہتا ہوں کہ جو کچھ اس اشتہار کے لکھنے والوں اور اُن کی جماعت نے محض دل دُکھانے اور توہین کی نیت سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اعتراضات کے پیرا یہ میں سخت الفاظ لکھے ہیں یا میری نسبت مال خور اور ٹھگ اور کاذب اور نمک حرام کے لفظ کو استعمال میں لائے ہیں اور مجھے لوگوں کا دغا بازی سے مال کھانے والا قرار دیا ہے اور یا جو خود میری جماعت کی نسبت سور اور کتے اور مردار خوار اور گدھے اور بندر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ملیچھ ان کا نام رکھا ہے ان تمام دُکھ دینے والے الفاظ پر وہ صبر کریں اور میں اُس جوش اور اشتعال طبع کو خوب جانتا ہوں کہ جو انسان کو اس حالت میں پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ نہ صرف اس کو گالیاں دی جاتی ہیں بلکہ اس کے رسول اور پیشوا اور امام کو تو ہین اور تحقیر کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور سخت اور غضب پیدا کرنے والے الفاظ سُنائے جاتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تم ان گالیوں اور بد زبانیوں پر صبر نہ کرو تو پھر تم میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوگا ؟ اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ تمہارے ساتھ ہوئی اور پہلے کسی سے نہیں ہوئی ہر ایک سچا سلسلہ جو دنیا میں قائم ہوا ضر ور دنیا نے