حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 168
۱۶۸ فرق آجاتا ہے۔اور بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ پیرانہ سالی میں قدم رکھتے ہی اُن میں جنون کے آثار شروع ہو جاتے ہیں اور مخبوط الحواس نظر آتے ہیں اور بچپن کے سے خواص اُن میں پائے جاتے ہیں۔(البدر۔یکم جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) ایسے بہت سے خاندان ہیں کہ اُن میں ۶۰ یا ۷۰ سال کے بعد انسان کے حواس میں فتور آ جاتا ہے۔غرض اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی قومی کی کمزوری اور طاقتوں کے ضائع ہو جانے سے انسان ہوش میں بیہوش ہوتا ہے اور ضعف و تکامل اپنا اثر کرنے لگتا ہے۔انسان کی عمر کی تقسیم انہی تین زمانوں پر ہے اور یہ تینوں ہی خطرات اور مشکلات میں ہیں۔پس اندازہ کرو کہ خاتمہ بالخیر کے لئے کس قدر مشکل مرحلہ ہے۔الحکم مورخه ۱۰، جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲) اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے (جیسا کہ میں پہلے کئی مرتبہ بیان کر چکا ہوں ) اول ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے ورنہ وہ ضرور ہلاک ہو گا۔جو شخص دیدہ دانسته بد راه اختیار کرتا ہے یا کنوئیں میں گرتا ہے اور زہر کھاتا ہے وہ یقیناً ہلاک ہو گا۔ایسا شخص نہ دنیا کے نزدیک اور نہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل رحم ٹھہر سکتا ہے۔اس لئے یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لئے (جس کو اللہ تعالیٰ نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے) کہ جہاں تک ممکن ہے بدصحبتوں اور بد عادتوں سے پر ہیز کریں اور اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگا ئیں۔اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے تدبیر کرنی چاہئے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہئے۔یاد رکھو تد بیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو اسی سے وہ راہ کھل جاتی ہے جو بدیوں سے نجات پانے کی راہ ہے جولوگ بدیوں سے بچنے کی تجویز اور تدبیر نہیں کرتے ہیں وہ گویا بدیوں پر راضی ہو جاتے ہیں اور اس طرح پر خدا تعالیٰ اُن سے الگ ہو جاتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجہ میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تو امہ ہو جاتا ہے اور ایسی قابل قدر تبدیلی پالیتا ہے کہ یا تو وہ امارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا اور یا تدبیر اور تجویز کرنے سے وہی قابل لعنت نفس امارہ ، لوامہ ہو جاتا ہے جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے۔(الحکم مورخه، ارجنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۳) سواے دے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اُس وقت میری جماعت