حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 167

۱۶۷ کے لئے ہے۔ایسا انسان اگر میری جماعت میں ہے تو وہ عبث طور میری جماعت میں اپنے تئیں داخل کرتا ہے کیونکہ وہ اس خشک ٹہنی کی طرح ہے جو پھل نہیں لائے گی۔اے سعادت مند لوگو! تم زور کے ساتھ اس تعلیم میں داخل ہو جو تمہاری نجات کے لئے مجھے دی گئی ہے۔تم خدا کو واحد لاشریک سمجھو۔اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو نہ آسمان میں سے نہ زمین میں سے۔خدا اسباب کے استعمال سے تمہیں منع نہیں کرتا۔لیکن جو شخص خدا کو چھوڑ کر اسباب پر ہی بھروسہ کرتا ہے وہ مشرک ہے۔قدیم سے خدا کہتا چلا آیا ہے کہ پاک دل بننے کے سوا نجات نہیں۔سوتم پاک دل بن جاؤ اور نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔انسان کے نفس امارہ میں کئی قسم کی پلید یاں ہوتی ہیں مگر سب سے زیادہ تکبر کی پلیدی ہے۔اگر تکبر نہ ہوتا تو کوئی شخص کافر نہ رہتا۔سو تم دل کے مسکین بن جاؤ۔عام طور پر بنی نوع کی ہمدردی کرو۔جبکہ تم انہیں بہشت دلانے کے لئے وعظ کرتے ہو۔سو یہ وعظ تمہارا کب صحیح ہو سکتا ہے اگر تم اس چند روزہ دنیا میں اُن کی بدخواہی کرو۔خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔نمازوں میں بہت دُعا کرو کہ تا تمہیں خدا اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے۔کیونکہ انسان کمزور ہے۔ہر ایک بدی جو دُور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دُور ہوتی ہے اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلاؤ بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رُو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جا ئیں۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۳) میری طرف سے جماعت کے لئے بار بار وہی نصیحت ہے جو کہ میں کئی دفعہ اس جگہ اور دوسرے مقامات میں کر چکا ہوں کہ انسان کی عمر نا پائیدار ہے اس کا کچھ بھروسہ نہیں ہے اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کے حاصل کرنے کے لئے راستہ میں بہت سے کانٹے ہیں۔جب انسان دنیا میں آتا ہے تو اس کا اول حصہ تو بیہوشی میں گذر جاتا ہے کیونکہ بچہ ہوتا ہے اور اسے کسی قسم کا علم ہر گز نہیں ہوتا۔پھر دوسرا زمانہ اس پر آتا ہے کہ اگر چہ بچوں جیسی بیہوشی تو نہیں ہوتی مگر جوانی کی مستی کی ایک بے ہوشی ضرور ہوتی ہے۔پس دوزمانے تو اس طرح مارے جاتے ہیں۔پھر تیسرا زمانہ آتا ہے جو کہ پیرانہ سالی کا زمانہ ہوتا ہے کہ علم کے بعد پھر لا علم ہو جاتا ہے۔حواس میں