حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 165
۱۶۵ نہیں صرف جسم ہی جسم باقی رہا ہوا ہے جس میں روحانیت کا کوئی نام ونشان نہیں۔یہ مجاہدے دل کو پاک نہیں کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حقیقی نور معرفت کا بخش سکتے ہیں پس یہ زمانہ بالکل خالی ہے۔نبوی طریق جو پاک ہونے کا تھا وہ بالکل ترک کر دیا گیا ہے اور اس کو بھلا دیا ہے۔اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ عہد نبوت پھر آجاوے اور تقویٰ و طہارت پھر قائم ہو اور اس کو اس نے اس جماعت کے ذریعہ سے چاہا ہے۔پس فرض ہے کہ حقیقی اصلاح کی طرف تم توجہ کرو اسی طرح پر جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح کا طریق بتایا ہے۔الحکم مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم ۲،۱) اے لوگو! خدا سے ڈرو اور درحقیقت اس سے صلح کر لو اور سچ مچ صلاحیت کا جامہ پہن لو اور چاہئے کہ ہر ایک شرارت تم سے دُور ہو جائے۔خدا میں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں۔خدا میں بے انتہا طاقتیں ہیں۔خدا میں بے انتہا رحم اور فضل ہے۔وہی ہے جو ایک ہولناک سیلاب کو ایک دم میں خشک کر سکتا ہے۔وہی ہے جو مہلک بلاؤں کو ایک ہی ارادے سے اپنے ہاتھ سے اُٹھا کہ دور پھینک دیتا ہے۔مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں انہی پر کھلتی ہیں جو اُس کے ہی ہو جاتے ہیں اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں اور اس کے آستانے پر گرتے ہیں۔اور اس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں۔اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں تب وہ مصیبتوں میں اُن کی خبر لیتا ہے اور عجیب طور پر دشمنوں کی سازشوں اور منصوبوں سے انہیں بچا لیتا ہے اور ذلت کے مقاموں سے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔وہ ان کا متولی اور متعہد ہو جاتا ہے۔وہ ان مشکلات میں جبکہ کوئی انسان کام نہیں آ سکتا ان کی مدد کرتا ہے اور اس کی فوجیں اس کی حمایت کے لئے آتی ہیں۔کس قدر شکر کا مقام ہے کہ ہمارا خدا کریم اور قادر خدا ہے۔پس کیا تم ایسے عزیز کو چھوڑو گے؟ کیا اپنے نفس نا پاک کے لئے اس کی حدود کو توڑ دو گے؟ ہمارے لئے اس کی رضا مندی میں مرنا نا پاک زندگی سے بہتر ہے۔تیام اصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۴۲٬۳۴۱) اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی۔اپنا آرام۔اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے۔اور جہاں تک تمہاری