حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 164

۱۶۴ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یا درکھتے اور دلوں کے نرم اور کچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں۔جو اخَرِينَ مِنْهُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا !!!۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰ ، ۳۰۷) وہ خدا جو آنکھوں سے پوشیدہ مگر سب چیزوں سے زیادہ چمک رہا ہے جس کے جلال سے فرشتے بھی ڈرتے ہیں وہ شوخی اور چالا کی کو پسند نہیں کرتا اور ڈرنے والوں پر رحم کرتا ہے سو اس سے ڈرو اور ہر ایک بات سمجھ کر کہو۔تم اس کی جماعت ہو جن کو اُس نے نیکی کا نمونہ دکھانے کے لئے چنا ہے سو جو شخص بدی نہیں چھوڑتا اور اس کے کب جھوٹھ سے اور اس کا دل نا پاک خیالات سے پر ہیز نہیں کرتا وہ اس جماعت سے کاٹا جائے گا۔اے خدا کے بندو! دلوں کو صاف کرو اور اپنے اندرونوں کو دھو ڈالو۔تم نفاق اور دورنگی سے ہر ایک کو راضی کر سکتے ہو مگر خدا کو اس خصلت سے غضب میں لاؤ گے۔اپنی جانوں پر رحم کرو اور اپنی ذریت کو ہلاکت سے بچاؤ کبھی ممکن ہی نہیں کہ خدا تم سے راضی ہو حالانکہ تمہارے دل میں اس سے زیادہ کوئی اور عزیز بھی ہے۔اس کی راہ میں فدا ہو جاؤ اور اس کے لئے محو ہو جاؤ اور ہمہ تن اس کے ہو جاؤ۔اگر چاہتے ہو کہ اسی دنیا میں خدا کو دیکھ لو۔راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۵۶، ۱۵۷) خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔عام طور پر تکبر کا لفظ دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔ان کی غرض و غایت صرف جسم تک محدود ہے۔اس لئے اون کے مجاہدہ اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کے ہیں۔جیسے ذکر اڑہ وغیرہ جن کا چشمہ نبوت سے پتہ نہیں چلتا۔میں دیکھتا ہوں کہ دل کو پاک کرنے کی طرف ان کی توجہ ہی