حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 163

۱۶۳ ہے۔جب تک کہ وہ ٹور جو خدا کی نالی میں سے آتا ہے تمہارے قلب پر نہیں گرتا تزکیہ نفس نہیں ہوسکتا انسان کا سینہ مهبط الانوار ہے اور اسی وجہ سے وہ بیت اللہ کہلاتا ہے۔بڑا کام یہی ہے کہ اس میں جو بت ہیں وہ توڑے جائیں اور اللہ ہی اللہ رہ جائے۔الحکم مورخہ ۷ ار اگست ۱۹۰۱ء صفحہ ۲ ،۳۔ملفوظات جلد اول صفحه ۲۱،۱۲۰ جدید ایڈیشن ) اگر چہ ہمارا گر وہ ابھی بکثرت دنیا میں نہیں پھیلا لیکن پشاور سے لے کر بمبئی اور کلکتہ اور حیدر آباد دکن اور بعض دیار عرب تک ہمارے پیرو دنیا میں پھیل گئے۔پہلے یہ گروہ پنجاب میں بڑھتا پھولتا گیا اور اب میں دیکھتا ہوں کہ ہندوستان کے اکثر حصوں میں ترقی کر رہا ہے۔ہمارے گروہ میں عوام کم اور خواص زیادہ ہیں۔۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور قدرت نے مولویوں کو ان کے ارادوں سے نامراد ر کھ کر ہماری جماعت کو فوق العادت ترقی دی ہے اور دے رہا ہے۔وہ لوگ جو درحقیقت پارسا طبع اور خدا ترس اور نوع انسان سے ہمدردی کرنے والے اور دین کی ترقی کے لئے بدل و جان کوشش کرنے والے اور خدا تعالیٰ کی عظمت کو دل میں بٹھانے والے اور عقلمند اور ذی فہم اور او الوالعزم اور خدا اور رسول سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ اس جماعت میں بکثرت پائے جائیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بات کا ارادہ کر رہا ہے کہ اس جماعت کو بڑہا وے اور برکت دے اور زمین کے کناروں تک سعادت مند انسانوں کو کھینچ کر اس میں داخل کرے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۰۴، ۲۰۵ حاشیه ) سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا؟ اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بد زبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مدددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے اُن میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی اور الہام الہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ