حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 161

۱۶۱ نگہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں۔سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنی کلام میں سکھلایا ہے۔ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو اس دنیوی فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے سچے علم اور فلسفہ کو خدا کی کتاب میں ڈھونڈا۔نادانی کی راہیں کیوں اختیار کرتے ہو؟ کیا تم خدا کو وہ باتیں سکھلاؤ گے جو اُسے معلوم نہیں ؟ کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑتے ہو کہ وہ تمہیں وہ راہ دکھلا دیں ؟ اے نادانو ! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ دکھائے گا ؟ بلکہ سچا فلسفہ رُوح القدس سے حاصل ہوتا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔تم رُوح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں۔اگر صدق سے مانگو تو آخر تم اُسے پاؤ گے تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تازگی اور زندگی بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچا دیتا ہے۔وہ جو خود مُردار خوار ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک غذا لائے گا؟ وہ جو خود اندھا ہے وہ کیونکر تمہیں دکھاوے گا ؟ ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو؟ جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں۔جن کو خود تسلی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلی دے سکتے ہیں۔مگر پہلے دلی پاکیزگی ضروری ہے۔پہلے صدق و صفا ضروری ہے پھر بعد اس کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۲ تا ۲۴) اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حکم عدل مانا ہے تو اس کے ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کی فکر کرو۔وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہوگا ، لیکن اگر تم نے بچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اُس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو۔اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہر و۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے۔وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا۔وہ حکم عدل ہوگا اگر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو پھر کب ہوگی۔(الحکم ۱۰ر دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ نمبر ۱۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) تمام مخلصین داخلین سلسلہ بیعت اس عاجز پر ظاہر ہو کہ بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آ جائے اور ایسی