حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 152

۱۵۲ ناپا کی اُس میں پائی جائے لہذا ہم پر یہ واجب اور فرض ہوگا کہ اگر ہم کسی کی نسبت کوئی شکایت سنیں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فرائض کو عمد ا ضائع کرتا ہے یا کسی ٹھٹھے اور بیہودگی کی مجلس میں بیٹھا ہے یا کسی اور قسم کی بد چلنی اس میں ہے تو وہ فی الفور اپنی جماعت سے الگ کر دیا جائے گا اور پھر وہ ہمارے ساتھ اور ہمارے دوستوں کے ساتھ نہیں رہ سکے گا۔۔اصل بات یہ ہے کہ ایک کھیت جو محنت سے طیار کیا جاتا اور پکایا جاتا ہے اس کے ساتھ خراب بوٹیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں جو کاٹنے اور جلانے کے لائق ہوتی ہیں۔ایسا ہی قانون قدرت چلا آیا ہے جس سے ہماری جماعت باہر نہیں ہو سکتی اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو حقیقی طور پر میری جماعت میں داخل ہیں اُن کے دل خدا تعالیٰ نے ایسے رکھے ہیں کہ وہ طبعا بدی سے متنفر اور نیکی سے پیار کرتے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی کا بہت اچھا نمونہ لوگوں کے لئے ظاہر کریں گے۔تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحه ۴۲ تا ۴۵ - مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۲۰ تا ۲۲۲ بار دوم ) دنیا جائے گذشتنی گذاشتی ہے اور جب انسان ایک ضروری وقت میں ایک نیک کام کے بجالانے میں پوری کوشش نہیں کرتا تو پھر وہ گیا ہوا وقت ہاتھ نہیں آتا۔اور خود میں دیکھتا ہوں کہ بہت سا حصہ عمر کا گزار چکا ہوں اور الہام الہی اور قیاس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ باقی ماندہ تھوڑا سا حصہ ہے۔پس جو کوئی میری موجودگی اور میری زندگی میں میری منشا کے مطابق میری اغراض میں مدد دے گا میں امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت میں بھی میرے ساتھ ہوگا اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا میں اُمید نہیں رکھتا کہ اس مال کے خرچ سے اُس کے مال میں کچھ کمی آ جائے گی بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی۔پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے۔پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے پیسہ کے برابر نہیں ہو گا۔یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فرستادہ موجود ہے جس کا صد ہا سال سے اُمتیں انتظار کر رہی تھیں۔اور ہر روز خدا تعالیٰ کی تازہ وحی تازہ بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہو رہی ہے۔اور خدا تعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا ہے کہ واقعی اور قطعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا۔مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر