حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 150
۱۵۰ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قول الر یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹھ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں۔جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بہت ہے۔سچی گواہی دو اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔باہم بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ۔قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ایک تو حید و محبت و اطاعت باری عزّ اسمۀ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۴۶ تا ۵۵۰) میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہے یا اپنے مقامات میں بود و باش رکھتے ہیں اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی اور نیک نیتی اور تقوی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔وہ پنجوقت نماز جماعت کے پابند ہوں۔وہ جھوٹ نہ بولیں۔وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں۔اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور نا کر دنی اور نا گفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔گورنمنٹ برطانیہ جس کے زیر سایہ اُن کے مال اور جانیں اور آبرو ئیں محفوظ ہیں بصدق دل اُس کے وفادار تابعدار رہیں اور تمام انسانوں کی ہمدردی اون کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک نا پاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنجوقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اور غبن اور رشوت اور اتلاف حقوق اور بے جا طرف داری سے باز رہیں اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں اور اگر بعد میں ثابت ہو کہ ایک شخص جو اون کے ساتھ آمد ورفت رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے احکام کا پابند نہیں ہے یا اس گورنمنٹ محسنہ کا خیر خواہ نہیں ہے یا حقوق عباد کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا اور یا ظالم طبع اور شریر مزاج اور بد چلن آدمی ہے اور یا یہ کہ جس شخص سے تمہیں تعلق بیعت اور ارادت ہے اس کی نسبت ناحق اور بے وجہ بد گوئی اور زبان درازی اور بد زبانی اور بہتان اور افترا کی عادت جاری رکھ کر خدا تعالیٰ کے بندوں کو دھوکہ دینا چاہتا ہے تو تم پر لازم ہوگا کہ اس بدی کو اپنے الحج: ٣١