حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 149
۱۴۹ ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہری وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضا کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دُعا کرو اور رونا اور گڑ گڑانا اپنی عادت کر لو تا تم پر رحم کیا جائے۔سچائی اختیار کر وسچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔کیا انسان اُس کو بھی دھوکا دے سکتا ہے؟ کیا اُس کے آگے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں؟ نہایت بد بخت آدمی اپنے فاسقانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کو اس کی کچھ پروانہیں ہوتی۔عزیز و! اس دنیا کی مُجر ومنطق ایک شیطان ہے اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹادیتا ہے اور بے باکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریت کے پہنچاتا ہے سوئم اس سے اپنے تئیں بچاؤ اور ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو اور بغیر چون چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچانا چاہتی ہیں ان کی طرف کان دھرو اور ان کے موافق اپنے تئیں بناؤ۔قرآن شریف انجیل کی طرح تمہیں صرف یہ نہیں کہتا کہ نامحرم عورتوں یا ایسوں کو جو عورتوں کی طرح محل شہوت ہو سکتی ہیں شہوت کی نظر سے مت دیکھو بلکہ اس کی کامل تعلیم کا یہ منشا ہے کہ تو بغیر ضرورت نامحرم کی طرف نظرمت اُٹھا۔نہ شہوت سے اور نہ بغیر شہوت بلکہ چاہئے کہ تو آ نکھیں بند کر کے اپنے تئیں ٹھوکر سے بچاوے تا تیری دلی پاکیزگی میں کچھ فرق نہ آوے سو تم اپنے مولیٰ کے اس حکم کو خوب یا درکھو اور آنکھوں کے زنا سے اپنے تئیں بچاؤ اور اس ذات کے غضب سے ڈرو جس کا غضب ایک دم میں ہلاک کر سکتا ہے۔قرآن شریف یہ بھی فرماتا ہے کہ تو اپنے کانوں کو بھی نامحرم عورتوں کے ذکر سے بچا اور ایسا ہی ہر یک ناجائز ذکر سے۔مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو۔کیونکہ بج، نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق چھوڑ دو۔سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِن