حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 145

۱۴۵ اور وہی ہمارے خالص دوست متصوّ رہوں اور وہی ہیں جن کے حق میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں انہیں اُن کے غیروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا اور برکت اور رحمت اُن کے شامل حال رہے گی اور مجھے فرمایا کہ تو میری اجازت سے اور میری آنکھوں کے رو برو یہ کشتی تیار کر۔جولوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ خدا سے بیعت کریں گے۔خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہو گا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ حاضر ہو جاؤ اور اپنے رب کریم کو اکیلا مت چھوڑو۔جو شخص اُسے اکیلا چھوڑتا ہے وہ اکیلا چھوڑا جائے گا۔سوحسب فرموده ایزدی دعوت بیعت کا عام اشتہار دیا جاتا ہے اور مُتَحَمّلینِ شرائط متذکرہ بالا کو عام اجازت ہے کہ بعد ادائے استخارہ مسنونہ اس عاجز کے پاس بیعت کرنے کے لئے آویں۔خدا تعالیٰ ان کا مددگار ہو اور ان کی زندگی میں پاک تبدیلی کرے اور ان کو سچائی اور پاکیزگی اور محبت اور روشن ضمیری کی روح بخشے۔آمین ثم آمین۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين المبلغ خاکسار احقر عباد اللہ غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۵۹ تا ۶۱ بار دوم ) اگر کوئی عمدا ان شرائط کی خلاف ورزی کرے جو اشتہار ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں مندرج ہیں اور اپنی بے باکانہ حرکات سے باز نہ آوے تو وہ اس سلسلہ سے خارج شمار کیا جاوے گا۔یہ سلسلہ بیعت محض بمراد فراہمی طائفہ متقین یعنی تقوی شعار لوگوں کی جماعت کے جمع کرنے کے لئے ہے تا ایسے متقیوں کا ایک بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے۔اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت و عظمت و نتائج خیر کا موجب ہو اور وہ برکت کلمہ واحدہ پر متفق ہونے کے اسلام کی پاک و مقدس خدمات میں جلد کام آ سکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ اور نا انصافی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے اور نہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں۔یتیموں کے لئے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش