حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 143
۱۴۳ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا الَّذِيْنَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْق أَيْدِيهِمْ والسلام على من اتبع الهدى المبلغ خاکسار غلام احمد عفى عنه ( یکم دسمبر ۱۸۸۸ء) (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۷۰) رہی حقیقت بیعت کی سو وہ یہ ہے کہ بیعت کا لفظ بیچ سے مشتق ہے اور بیج اس باہمی رضامندی کے معاملہ کو کہتے ہیں جس میں ایک چیز دوسری چیز کے عوض میں دی جاتی ہے۔سو بیعت سے غرض یہ ہے کہ بیعت کرنے والا اپنے نفس کو مع اس کے تمام لوازم کے ایک رہبر کے ہاتھ میں اس غرض سے بیچے کہ تا اس کے عوض میں وہ معارفِ حقہ اور برکات کا ملہ حاصل کرے جو موجب معرفت اور نجات اور رضا مندی باری تعالیٰ ہوں۔اس سے ظاہر ہے کہ بیعت سے صرف تو به منظور نہیں کیونکہ ایسی تو بہ تو انسان بطور خود بھی کر سکتا ہے بلکہ وہ معارف اور برکات اور نشان مقصود ہیں جو حقیقی توبہ کی طرف کھینچتے ہیں۔بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیوی جہنم سے رہا ہو کر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو اور دنیوی نابینائی سے شفا پا کر آخرت کی نابینائی سے بھی امن حاصل ہو۔( ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۹۸) تکمیل تبلیغ مضمون تبلیغ جو اس عاجز نے اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء میں شائع کیا ہے جس میں بیعت کے لئے حق کے طالبوں کو بلایا ہے۔اس کی مجمل شرائط کی تشریح یہ ہے:۔اول بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔دوم یہ کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر یک فسق اور فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت لے تو ہمارے حکم سے ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر۔جو لوگ تیری بیعت کرتے ہیں وہ دراصل خدا کی بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر خدا کا ہاتھ ہے۔