حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 140
۱۴۰ کہ لوگ اپنے دلوں کی اصلاح نہ کر لیں اور جس طرح یوسف نبی کے وقت میں ہوا کہ سخت کال پڑا یہاں تک کہ کھانے کے لئے درختوں کے پتے بھی نہ رہے۔اسی طرح ایک آفت کا سامنا موجود ہو گا اور جیسا کہ یوسف نے اناج کے ذخیرے سے لوگوں کی جان بچائی اسی طرح جان بچانے کے لئے خدا نے اس جگہ بھی مجھے ایک روحانی غذا کا مہتم بنایا ہے جو شخص اس غذا کو کچے دل سے پورے وزن کے ساتھ کھائے گا میں یقین رکھتا ہوں کہ ضرور اس پر رحم کیا جائے گا۔تبلیغ رسالت جلد دہم صفحه ۸۴۸۳۔۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۳۷ ، ۶۳۸ بار دوم ) آج ۲۹ / اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے۔سو میں محض ہمدردی مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پاچکی ہے کہ ایک شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دنیا پر آوے گی جس کا نام خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ رکھا ہے۔میں نہیں جانتا کہ وہ قریب ہے یا کچھ دنوں کے بعد خدا تعالیٰ اس کو ظاہر فرمادے گا۔مگر بار بار خبر دینے سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بہت دُور نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی خبر اور اس کی خاص وحی ہے جو عالم الاسرار ہے۔اس کے مقابل پر جو لوگ یہ شائع کر رہے ہیں کہ ایسا کوئی سخت زلزلہ آنے والا نہیں ہے وہ اگر منجم ہیں یا کسی اور علمی طریق سے اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔در حقیقت یہ بیچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا اور نہ کسی دل میں گزرا۔بجز تو بہ اور دل کے پاک کرنے کے کوئی اس کا علاج نہیں۔کوئی ہے جو ہماری اس بات پر ایمان لائے؟ اور کوئی ہے جو اس آواز کو دل لگا کر سُنے ؟ یہ بھی ملک کی بدقسمتی ہے جو خدا کے کلام کو ٹھٹھے اور جنسی سے دیکھتے ہیں اور اُن کے دل ڈرتے نہیں۔خدا فرماتا ہے کہ میں چُھپ کر آؤں گا۔میں اپنی فوجوں کے ساتھ اُس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہو گا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔غالباً وہ صبح کا وقت ہو گا یا کچھ حصہ رات میں سے یا ایسا وقت ہو گا جو اس سے قریب ہے۔پس اے عزیز و ! تم جو خدا تعالیٰ کی وحی پر ایمان لاتے ہو ہشیار ہو جاؤ اور اپنے تو بہ کے جامہ کو خوب پاک اور صاف کرو کہ خدا تعالیٰ کا غضب آسمان پر بھڑ کا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ دنیا کو اپنا چہرہ دکھاوے بجز تو بہ کے کوئی پناہ نہیں۔ہلاک ہو گئے وہ لوگ جن کا کام ٹھٹھا اور جنسی ہے جو گناہ اور معصیت کا سے باز نہیں آتے اور اُن کی مجلسیں ناپا کی اور غفلت سے بھری ہوئی ہیں اور اُن کی زبانیں مُردار سے بدتر ہیں وہ بار بار کی شوخیوں سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتے ہیں۔وہ دلوں کے اندھے ہیں اور خدا تعالیٰ