حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 138

۱۳۸ بخلوں اور بدزبانیوں سے پر ہیز کرو اور قبل اس کے کہ وہ وقت آ وے کہ انسانوں کو دیوانہ سا بنا دے بے قراری کی دعاؤں سے خود دیوانے بن جاؤ۔عجب بدبخت وہ لوگ ہیں کہ جو مذہب صرف اس بات کا نام رکھتے ہیں کہ محض زبان کی چالاکیوں پر سارا دارو مدار ہو اور دل سیاہ اور ناپاک اور دنیا کا کیڑا ہو۔پس اگر تم اپنی خیر چاہتے ہو تو ایسے مت بنو۔عجب بد قسمت وہ شخص ہے کہ جو اپنے نفس امارہ کی طرف ایک نظر بھی اٹھا کر نہیں دیکھتا اور بد بودار تعصب سے دوسروں کو بد زبانی سے پکارتا ہے۔پس ایسے شخص پر ہلاکت کی راہ کھلی ہے۔سوتقویٰ سے پورا حصہ لو اور خداترسی کا کامل وزن اختیار کرو اور دعاؤں میں لگے رہوتا تم پر تم ہو۔۔۔۔دیکھو میں اس وقت اپنا فرض ادا کر چکا ہوں اور قبل اس کے کہ تنگی کے دن آویں میں نے اطلاع دے دی ہے۔تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۲ تا ۷۵۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۶۲۸ تا ۶۳۰ بار دوم ) چونکہ میرا کام دعوت اور تبلیغ ہے اس لئے میں دوبارہ ظاہر کرتا ہوں اور میں قسم حضرت احدیت جلّ شانهٔ کی کھا کر کہتا ہوں کہ میرے پر خدا نے اپنی وحی کے ذریعہ سے ظاہر فرمایا ہے کہ میرا غضب زمین پر بھڑ کا ہے کیونکہ اس زمانہ میں اکثر لوگ معصیت اور دنیا پرستی میں ایسے غرق ہو گئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں رہا اور وہ جو اس کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا ہے اُس سے ٹھٹھا کیا جاتا ہے اور یہ ٹھٹھا اور لعن طعن حد سے گذر گیا ہے۔پس خدا فرماتا ہے کہ میں ان سے جنگ کروں گا اور میرے وہ حملے ان پر ہوں گے جو ان کے خیال و گمان میں نہیں کیونکہ انہوں نے جھوٹ سے اس قدر دوستی کی کہ سچائی کو اپنے پاؤں کے نیچے پامال کرنا چاہا۔پس خدا فرماتا ہے کہ میں نے اب ارادہ کیا ہے کہ اپنے غریب گروہ کو ان درندوں کے حملوں سے بچاؤں اور سچائی کی حمایت میں کئی نشان ظاہر کروں۔اور وہ فرماتا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۵ ۷۶۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۶۳۱ بار دوم ) خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کر کے اپنے تئیں بچا لو قبل اس کے کہ جو وہ ہولناک دن آ وے جو ایک دم میں تباہ کر دے گا اور فرماتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرتے ہیں اور بدی سے بچتے ہیں اور پھر اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میر افضل تیرے نزدیک آ گیا۔یعنی وہ وقت آ گیا کہ تو کامل طور پر شناخت کیا جاوے۔حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔حاصل مطلب یہ ہے کہ جو کچھ نشان ظاہر ہوا اور ہو گا اس سے یہ غرض ہے کہ لوگ بدی سے باز آویں