حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 135
۱۳۵ جائیں گی تو تم لوگوں کی مجال نہ تھی جو تم مجھے وہ دُکھ دیتے جو تم نے دیا۔پر ضرور تھا کہ وہ سب نوشتے پورے ہوں جو خدا کی طرف سے لکھے گئے تھے اور اب تک تمہیں ملزم کرنے کے لئے تمہاری کتابوں میں موجود ہیں جن کو تم زبان سے پڑھتے اور پھر تکفیر اور لعنت کر کے مُہر لگا دیتے ہو کہ وہ بد علماء اور ان کے دوست جو مہدی کی تکفیر کریں گے اور مسیح سے مقابلہ سے پیش آئیں گے وہ تم ہی ہو۔میں نے بار بار کہا کہ آؤ اپنے شکوک مثالو۔پر کوئی نہیں آیا۔میں نے فیصلہ کے لئے ہر ایک کو بلایا پر کسی نے اس طرف رُخ نہیں کیا۔میں نے کہا کہ تم استخارہ کرو اور رو رو کر خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم پر حقیقت کھولے پر تم نے کچھ نہ کیا اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔خدا نے میری نسبت سچ کہا کہ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص در حقیقت سچا ہو اور ضائع کیا جائے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کی طرف سے ہو اور برباد ہو جائے ؟ پس اے لوگو! تم خدا سے مت لڑو۔یہ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے اس کے مزاحم مت ہو۔اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہو مگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں۔اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی خدا اس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سنتے اور زمین ” ضرورت ضرورت بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے ! اے بد بخت قوم! اُٹھ اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پیروں کے نیچے کچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیا گیا۔وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیا وہ ناپاکوں میں لکھا گیا۔تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی۔اب سمجھ کہ آسمان جھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو ”انا الموجود“ کی آواز آئے۔ہم نے کفار سے بہت کچھ دیکھا۔اب خدا بھی کچھ دکھلانا چاہتا ہے۔سواب تم دیدہ و دانستہ اپنے تئیں مور دغضب مت بناؤ۔کیا صدی کا سر تم نے نہیں دیکھا جس پر چودہ برس اور بھی گذر گئے؟ کیا خسوف کسوف رمضان میں تمہاری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا۔کیا ستارہ ذوالسنین کے طلوع کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی؟ کیا تمہیں اس ہولناک زلزلہ کی کچھ خبر نہیں جو مسیح کی پیشگوئی کے مطابق ان ہی دنوں میں وقوع میں آیا اور بہت سی بستیوں کو برباد کر گیا۔اور خبر دی گئی تھی کہ اسی کے متصل مسیح بھی آئے گا ؟ کیا تم نے آتھم کی نسبت وہ نشان نہیں دیکھا جو ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے