حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 134

۱۳۴ رسولی کاٹی نہ جائے تو ایک عرصہ کے بعد اس شخص کی زندگی اس کے لئے وبال ہو جائے گی تب اس بیمار کے وارث اس بات کو سُن کر اُس ڈاکٹر پر سخت ناراض ہوں اور اس ڈاکٹر کے قتل کر دینے کے درپے ہو جائیں مگر رسولی کا کچھ بھی فکر نہ کریں یہاں تک کہ وہ رسولی بڑھے اور پھو لے اور تمام پیٹ میں پھیل جائے اور اس بیچارے بیمار کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے سو یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنی دانست میں سلطان کے خیر خواہ کہلاتے ہیں۔پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں میں وہ شخص ہوں جو اُس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ وہ تمہارا امام اور خلیفہ ہے اور اُس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اُس کا دشمن لعنتی اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے اور وہ تمام دنیا کے لئے حگم ہو کر آئے گا اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہو گا “۔تو کیا یہ تقویٰ کا طریق تھا کہ میرے دعوی کوسُن کر اور میرے نشانوں کو دیکھ کر اور میرے ثبوتوں کا مشاہدہ کر کے مجھے یہ صلہ دیتے کہ گندی گالیاں اور ٹھٹھے اور ہنسی سے پیش آتے ؟ کیا نشان ظاہر نہیں ہوئے؟ کیا آسمانی تائید میں ظہور میں نہیں آئیں؟ کیا اُن سب وقتوں اور موسموں کا پتہ نہیں لگ گیا جو احادیث اور آثار میں بیان کی گئی تھیں؟ تو پھر اس قدر کیوں بے باکی دکھلائی گئی؟ ہاں اگر میرے دعوے میں اب بھی شک تھایا میرے دلائل اور نشانوں میں کچھ شبہ تھا تو غربت اور نیک نیتی اور خدا ترسی سے اُس شبہ کوڈ ور کرایا ہوتا مگر انہوں نے بجائے تحقیق اور تفتیش کے اس قدر گالیاں اور لعنتیں بھیجیں کہ شیعوں کو بھی پیچھے ڈال دیا۔کیا یہ ممکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔پھر ماسوا اس کے میرے مخالف اپنے دلوں میں آپ ہی سوچیں کہ اگر میں درحقیقت وہی مسیح موعود ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک بازو قرار دیا ہے اور جس کو سلام بھیجا ہے اور جس کا نام حکم اور عدل اور امام اور خلیفہ اللہ رکھا ہے تو کیا ایسے شخص پر ایک معمولی بادشاہ کے لئے لعنتیں بھیجنا، اُس کو گالیاں دینا جائز تھا؟ ذرا اپنے جوش کو تھام کے سوچیں نہ میرے لئے بلکہ اللہ اور رسول کے لئے کہ کیا ایسے مدعی کے ساتھ ایسا کرنا روا تھا ؟ میں زیادہ کہنا نہیں چاہتا کیونکہ میرا مقدمہ تم سب کے ساتھ آسمان پر ہے۔اگر میں وہی ہوں جس کا وعدہ نبیؐ کے پاک لبوں نے دیا تھا تو تم نے نہ میرا بلکہ خدا کا گناہ کیا ہے اور اگر پہلے سے آثار صحیحہ میں یہ وارد نہ ہوتا کہ اس کو دُ کھ دیا جائے گا اور اس پر لعنتیں بھیجی