حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 130

هذا ما اردنا لازالة الدجى والسلام عــلــى مــن اتبع الهدى الملتمس خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپورہ پنجاب۔۱۵؍ جولائی ۱۸۹۷ء تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۱۴۴ تا ۱۵۱ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۷ بار دوم ) واضح ہو کہ یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ جنہوں نے اس عاجز کا مسیح موعود ہونا مان لیا ہے وہ لوگ ہر یک خطرہ کی حالت سے محفوظ اور معصوم ہیں اور کئی طرح کے ثواب اور اجر اور قوت ایمانی کے وہ مستحق ٹھہر گئے ہیں۔اول یہ کہ انہوں نے اپنے بھائی پر حسن ظن کیا ہے۔اور اس کو مفتری یا کذاب نہیں ٹھہرایا اور اس کی نسبت کسی طرح کے شکوک فاسدہ کو دل میں جگہ نہیں دی اس وجہ سے اس ثواب کا انہیں استحقاق حاصل ہوا کہ جو بھائی پر نیک ظن رکھنے کی حالت میں ملتا ہے۔دوسری یہ کہ وہ حق کے قبول کرنے کے وقت کسی ملامت کنندہ کی ملامت سے نہیں ڈرے اور نہ نفسانی جذبات اُن پر غالب ہو سکے اس وجہ سے وہ ثواب کے مستحق ٹھہر گئے کہ انہوں نے دعوت حق کو پا کر ایک ربانی مناد کی آواز سُن کر پیغام کو قبول کر لیا اور کسی طرح کی روک سے رُک نہیں سکے۔تیسری یہ کہ پیشگوئی کے مصداق پر ایمان لانے کی وجہ سے وہ ان تمام وساوس سے مخلصی پاگئے کہ جو انتظار کرتے کرتے ایک دن پیدا ہو جاتے ہیں اور آخریاس کی حالت میں ایمان دُور ہو جانے کا موجب ٹھہرتے ہیں اور ان سعید لوگوں نے نہ صرف خطرات مذکورہ بالا سے مخلصی پائی بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک نشان اور اس کے نبی کی پیشگوئی اپنی زندگی میں پوری ہوتی دیکھ کر ایمانی قوت میں بہت ترقی کر گئے اور ان کے سماعی ایمان پر ایک معرفت کا رنگ آ گیا۔اب وہ ان تمام حیرتوں سے چھوٹ گئے جو ان پیشگوئیوں کے بارے میں دلوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں جو پوری ہونے میں نہیں آتیں۔چوتھی یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندہ پر ایمان لا کر اُس شخط اور غضب الہی سے بچ گئے جوان نافرمانوں پر ہوتا ہے کہ جن کے حصہ میں بجز تکذیب وانکار کے اور کچھ نہیں۔پانچویں یہ کہ وہ ان فیوض اور برکات کے مستحق ٹھہر گئے جو ان مخلص لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جو حسن ظن سے اُس شخص کو قبول کر لیتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔