حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 4
اس ملک میں آ کر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جا گیر اُن کو ملے۔چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست اُن کی ہو گئی۔سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا صاحب میرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے جن کے پاس اس وقت ریشے گا نو تھے اور بہت سے گانوسکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے اُن کے قبضہ سے نکل گئے تاہم اُن کی جوانمردی اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروّت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دیئے تھے جواب تک اُن کے پاس ہیں۔غرض وہ اس طوائف الملو کی کے زمانہ میں اپنے نواح میں ایک خود مختار رئیس تھے۔ہمیشہ قریب پانسو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ اُن کے دستر خوان پر روٹی کھاتے تھے۔اور ایک سو کے قریب علماء اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے اُن کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور اُن کے دربار میں اکثر قال اللہ اور قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا۔اور تمام ملازمین اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔یہاں تک کہ چکی پینے والی عورتیں بھی پنجوقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں اور گرد و نواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے قادیاں کو جو اس وقت اسلام پور کہلاتا تھا مکہ کہتے تھے۔کیونکہ اُس پر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی اور دوسری اکثر جگہ میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا۔اور قادیاں میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔میں نے خود اس زمانہ سے قریب زمانہ پانے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس قدر قادیاں کی عمدہ حالت بیان کرتے تھے کہ گویا وہ اس زمانہ میں ایک باغ تھا جس میں حامیانِ دین اور ور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف اور جوانمرد آدمیوں کے صدہا پودے پائے جاتے تھے۔اور اس نواح میں یہ واقعات نہایت مشہور ہیں کہ میرزا گل محمد صاحب مرحوم مشائخ وقت کے بزرگ لوگوں میں سے اور صاحب خوارق اور کرامات تھے۔جن کی صحبت میں رہنے کے لئے بہت سے اہل اللہ اور صلحاء اور فضلاء قادیاں میں جمع ہو گئے تھے۔اور عجیب تریہ کہ کئی کرامات اُن کی ایسی مشہور ہیں جن کی نسبت ایک گروہ کثیر مخالفان دین کا بھی گواہی دیتا رہا ہے۔غرض وہ علاوہ ریاست اور امارت کے اپنی دیانت اور تقویٰ اور مردانہ ہمت اور اولوالعزمی اور حمایت دین اور ہمدردی مسلمانوں کی صفت میں نہایت مشہور تھے اور اُن کی مجلس میں بیٹھنے والے سب کے سب متقی اور نیک چلن اور اسلامی غیرت رکھنے والے اور فسق و فجور سے دُور رہنے والے اور بہادر اور بارعب آدمی تھے۔چنانچہ میں نے کئی دفعہ اپنے والد صاحب مرحوم سے