حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 129
۱۲۹ سُن کر پھر التفات نہ کرنا راستبازوں کا کام نہیں اور میں جانتا ہوں کہ اس قسم کوسُن کر ہر ایک پاک دل اور خدا تعالیٰ کی عظمت سے ڈرنے والا ضرور توجہ کرے گا۔پھر ایسی الہامی شہادتوں کے جمع ہونے کے بعد جس طرف کثرت ہوگی وہ امر من جانب اللہ سمجھا جاوے گا۔اگر میں حقیقت میں کذاب اور دجال ہوں تو اس اُمت پر بڑی مصیبت ہے کہ ایسی ضرورت کے وقت میں اور فتنوں اور بدعات اور مفاسد کے طوفان کے زمانہ میں بجائے ایک مصلح اور مجدد کے چودھویں صدی کے سر پر دجال پیدا ہوا۔یادر ہے کہ ایسا ہر ایک شخص جس کی نسبت ایک جماعت اہلِ بصیرت مسلمانوں کی صلاح اور تقویٰ اور پاک دلی کا ظن رکھتی ہے وہ اس اشتہار میں میرا مخاطب ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ جو صلحاء شہرت کے لحاظ سے کم درجہ پر ہیں میں اُن کو کم نہیں دیکھتا ممکن ہے کہ وہ شہرت یافتہ لوگوں سے خدا کی نظر میں زیادہ اچھے ہوں۔اسی طرح میں صالحہ عفیفہ عورتوں کو بھی مردوں کی نسبت تحقیر کی نظر سے نہیں دیکھتا ممکن ہے کہ بعض شہرت یافتہ صالح مردوں سے بھی اچھی ہوں لیکن ہر ایک صاحب جو میری نسبت کوئی رویا یا کشف یا الہام لکھیں اُن پر ضروری طور پر واجب ہو گا کہ وہ حلفا اپنی دستخطی تحریر سے مجھے کو اطلاع دیں تا ایسی تحریریں ایک جگہ جمع ہوتی جائیں اور پھر حق کے طالبوں کے لئے شائع کی جائیں اس تجویز سے انشاء اللہ بندگان خدا کو بہت فائدہ ہو گا اور مسلمانوں کے دل کثرت شواہد سے ایک طرف تسلی پا کر فتنہ سے نجات پا جائیں گے۔اور آثار نبویہ میں بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اوّل مہدی آخر الزمان کی تکفیر کی جائے گی اور لوگ اس سے دشمنی کریں گے اور نہایت درجہ کی بدگوئی سے پیش آئیں گے اور آخر خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو اس کی سچائی کی نسبت بذریعہ رویا والهام وغیرہ اطلاع دی جائے گی اور دوسرے آسمانی نشان بھی ظاہر ہوں گے۔تب علماءِ وقت طوعاً و کرہا اس کو قبول کریں گے۔سواے عزیز و اور بزرگو! برائے خدا عالم الغیب کی طرف توجہ کرو۔آپ لوگوں کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میرے اس سوال کو مان لو۔اس قدیر ذوالجلال کی تمہیں سوگند ہے کہ اس عاجز کی یہ درخواست رد مت کرو۔عزیزان مے دہم صد بار سوگند بروئے حضرت دادار سوگند که در کارم جواب از حق بجوئید به محبوب دل ابرار سوگند لے اے دوستو میں تمہیں سینکڑوں قسمیں دیتا ہوں اور جناب الہی کی ذات کی قسمیں دیتا ہوں۔کہ میرے معاملہ میں خدا سے ہی جواب مانگو۔میں تمہیں نیکوں کے دلوں کے محبوب کی قسم دیتا ہوں۔