حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 127
۱۲۷ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي پنجاب اور ہندوستان کے مشائخ اور صلحاء اور اہل اللہ باصفا سے حضرت عزت اللہ جلشانہ کی قسم دے کر ایک درخواست اے بزرگانِ دین وعباد اللہ الصالحین ! میں اس وقت اللہ جل شانہ کی قسم دے کر ایک ایسی درخواست آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس پر توجہ کرنا آپ صاحبوں پر رفع فتنہ وفساد کے لئے فرض ہے کیونکہ آپ لوگ فراست اور بصیرت رکھتے ہیں۔اور نہ صرف انکل سے بلکہ نور اللہ سے دیکھتے ہیں اور اگر چہ ایسے ضروری امر میں جس میں تمام مسلمانوں کی ہمدردی ہے اور اسلام کے ایک بڑے بھاری تفرقہ کو مٹانا ہے قسم کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی مگر چونکہ بعض صاحب ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض مصالح کی وجہ سے خاموش رہنا پسند کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ سچی شہادت میں عام لوگوں کی ناراضگی متصور ہے اور جھوٹ بولنے میں معصیت ہے اور نہیں سمجھتے کہ اخفاء شہادت بھی ایک معصیت ہے ان لوگوں کو توجہ دلانے کے لئے قسم دینے کی ضرورت پڑی۔اے بزرگان دین ! وہ امر جس کے لئے آپ صاحبوں کو اللہ جل شانہ کی قسم دے کر اس کے کرنے کے لئے آپ کو مجبور کرتا ہوں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عین ضلالت اور فتنہ کے وقت میں اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر اصلاح خلق اللہ کے لئے مجدد کر کے بھیجا۔اور چونکہ اس صدی کا بھارا فتنہ جس نے اسلام کو نقصان پہنچایا تھا عیسائی پادریوں کا فتنہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کا نام مسیح موعود اور اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر بھیجا اور وہ آسمانی حربہ مجھے عطا کیا جس سے رکھا۔۔میں صلیبی مذہب کو تو ڈسکوں مگر افسوس کہ اس ملک کے کو تہ اندیش علماء نے مجھے قبول نہیں کیا اور نہایت بیہودہ عذرات پیش کئے جن کو ہر ایک پہلو سے توڑا گیا۔۔۔اور میرے بیان کے صدق پر اللہ جلّ شانہ نے کئی طرح کے نشان ظاہر فرمائے اور چاند سورج کو میری تصدیق کے لئے خسوف کسوف