حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 3
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم ہمارا شجرہ نسب اس طرح پر ہے میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضی صاحب ابن مرزا عطا محمد صاحب ابن مرزا گل محمد صاحب ابن مرزا فیض محمد صاحب ابن مرزا محمد قائم صاحب ابن مرزا محمد اسلم صاحب ابن مرزا محمد دلاور صاحب ابن مرزا الہ دین صاحب ابن مرزا جعفر بیگ صاحب ابن مرزا محمد بیگ صاحب ابن مرزا عبدالباقی صاحب ابن مرزا محمد سلطان صاحب ابن میرزا ہادی بیگ صاحب مورث اعلیٰ۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۲ حاشیه در حاشیه ) میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضی اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پر دادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل بر لاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے اور اُن کے ساتھ قریباً دو سو آدمی اُن کے توابع اور خدام اور اہل وعیال میں سے تھے۔اور وہ ایک معزز رئیس کی حیثیت سے اس ملک میں داخل ہوئے اور اس قصبہ کی جگہ میں جو اُس وقت ایک جنگل پڑا ہوا تھا جو لاہور سے تخمینا بفاصلہ پچاس کوس بگوشئہ شمال مشرق واقع ہے فروکش ہو گئے۔جس کو انہوں نے آباد کر کے اس کا نام اسلام پور رکھا جو پیچھے سے اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ اسلام پور کا لفظ لوگوں کو بھول گیا اور قاضی ماجھی کی جگہ پر قاضی رہا اور پھر آخر قادی بنا۔اور پھر اس سے بگڑ کر قادیاں بن گیا۔اور قاضی ماجھی کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ علاقہ جس کا طولانی حصہ قریباً ساٹھ کوس ہے ان دنوں میں سب کا سب ماجھہ کہلاتا تھا۔غالبا اس وجہ سے اس کا نام ماجھہ تھا کہ اس ملک میں بھینسیں بکثرت ہوتی تھیں اور ماجھ زبان ہندی میں بھینس کو کہتے ہیں اور چونکہ ہمارے بزرگوں کو علاوہ دیہات جاگیرداری کے اس تمام علاقہ کی حکومت بھی ملی تھی اس لئے قاضی کے نام سے مشہور ہوئے۔مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ہمارے بزرگ سمر قند سے اس ملک میں آئے مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اُس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑنا پڑا تھا۔پھر