حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 114
۱۱۴ والے نہ ہوتے تو دعا مذکورہ بالا ہر گز نہ سکھلائی جاتی۔جب سے دنیا میں خدا کی کتابیں آئی ہیں خدا تعالیٰ کا اُن میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی قوم کو ایک بات سے منع کرتا ہے کہ مثلاتم زنا نہ کرو یا چوری نہ کرو یا یہودی نہ بنو تو اس منع کے اندر یہ پیشگوئی مخفی ہوتی ہے کہ بعض اُن میں سے ارتکاب ان جرائم کا کریں گے۔دنیا میں کوئی شخص ایسی نظیر پیش نہیں کر سکتا کہ ایک جماعت یا ایک قوم کو خدا تعالیٰ نے کسی ناکردنی کام سے منع کیا ہو اور پھر وہ سب کے سب اس کام سے باز رہے ہوں۔بلکہ ضرور بعض اس کام کے مرتکب ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں یہودیوں کو یہ حکم دیا کہ تم نے توریت کی تحریف نہ کرنا۔سو اس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہود نے توریت کی تحریف کی۔مگر قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو کہیں حکم نہیں دیا کہ تم نے قرآن شریف کی تحریف نہ کرنا بلکہ یہ فرمایا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ یعنی ہم نے ہی قرآن شریف کو اتارا اور ہم ہی اس کی محافظت کریں گے۔اسی وجہ سے قرآن شریف تحریف سے محفوظ رہا۔غرض یہ قطعی اور یقینی اور مسلم سنت الہی ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کسی کتاب میں کسی قوم یا جماعت کو ایک بُرے کام سے منع کرتا ہے یا نیک کام کے لئے حکم فرماتا ہے تو اوس کے علم قدیم میں یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے حکم کی مخالفت بھی کریں گے۔پس خدا تعالیٰ کا سورہ فاتحہ میں یہ فرمانا کہ تم دُعا کیا کرو کہ تم وہ یہودی نہ بن جاؤ جنہوں نے عیسی علیہ السلام کو سولی دینا چاہا تھا جس سے دنیا میں ہی ان پر غضب الہی کی مار پڑی۔اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں یہ مقدر تھا کہ بعض افراد اس امت کے جو علماء امت کہلائیں گے اپنی شرارتوں اور تکذیب مسیح وقت کی وجہ سے یہودیوں کا جامہ پہن لیں گے ورنہ ایک لغو دعا کے سکھلانے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔یہ تو ظاہر ہے کہ علماء اس امت کے اس طرح کے یہودی نہیں بن سکتے کہ وہ اسرائیل کے خاندان میں سے بن جائیں اور پھر اُس عیسی بن مریم کو جو مدت سے اس دنیا سے گذر چکا ہے سولی دینا چاہیں کیونکہ اب اس زمانہ میں نہ وہ یہودی اس زمین پر موجود ہیں نہ وہ عیسی موجود ہے۔پس ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایک آئندہ واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ بتلا نا منظور ہے کہ اس امت میں عیسی مسیح کے رنگ میں آخری زمانہ میں ایک شخص مبعوث ہوگا اور اس کے وقت کے بعض علماء اسلام ان یہودی علماء کی طرح اُوس کو دُکھ دیں گے جو عیسی علیہ السلام کو دُکھ دیتے تھے اور ان کی شان میں بدگوئی کریں گے بلکہ احادیث صحیحہ سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہودی بننے کے یہ معنی ہیں کہ یہودیوں کے الحجر : ١٠