حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 109

۱۰۹ طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحه : ۶، ۷ ) یعنی اے ہمارے خدا ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایا ہے۔حضرت احدیت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اُس پر ضرور کوئی انعام مترتب ہوتا ہے۔چنانچہ خوارق اور نشان جن کی دوسرے لوگ نظیر پیش نہیں کر سکتے یہ بھی خدا تعالیٰ کے انعام ہیں۔جو خاص بندوں پر ہوتے ہیں۔اے گرفتار ہوا در ہمہ اوقات حیات با چنین نفس سیه چون رسدت زو عونے لے گر تو آن صدق بورزی که بورزید نیست اگر غرق شود فرعونی ۲ عجب (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵،۵۴) خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پا کر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا۔اور یہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ اس دنیا کے لوگ تیرھویں صدی ہجری کو ختم کر کے چودھویں صدی کے سر پر پہنچ گئے تھے۔تب میں نے اُس حکم کی پابندی سے عام لوگوں میں بذریعہ تحریری اشتہارات اور تقریروں کے یہ ندا کرنی شروع کی کہ اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں تا وہ ایمان جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اس کو دوبارہ قائم کروں۔اور خدا سے قوت پا کر اُسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں اور ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دُور کروں اور پھر جب اس پر چند سال گذرے تو بذریعہ وحی الہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امت کے لئے ابتداء سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزّل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اُس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا۔جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لے اے وہ جو ہمیشہ ہوا و ہوس کا قیدی ہے ایسے سیہ باطن نفس کے ہوتے تجھے خدا کی مدد کیونکر پہنچ سکتی ہے۔ے ہاں اگر تو وہ صدق اختیار کرے جو موسیٰ نے اختیار کیا تھا تو پھر تعجب نہیں کہ کوئی فرعون غرق ہو جائے۔