حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 96

۹۶ سلامتی کو پا لیا ہو۔افسوس کہ تم کچھ بھی نہیں سوچتے اور قرآن کریم کی ان آیتوں کو یاد نہیں کرتے جو خود نبی کریم کی نسبت اللہ جل شانہ فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تو ایک ذرہ مجھ پر افترا کرتا تو میں تیری رگِ جان کاٹ دیتا۔پس نبی کریم سے زیادہ ترکون عزیز ہے کہ جو اتنا بڑا افترا کر کے اب تک بچا رہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال بھی ہو۔سو بھائیو! نفسانیت سے باز آؤ اور جو باتیں خدائے تعالیٰ کے علم سے خاص ہیں اُن میں حد سے بڑھ کر ضد مت کرو اور عادت کے سلسلہ کو تو ڑ کر اور ایک نئے انسان بن کر تقویٰ کی راہوں میں قدم رکھو تا تم پر رحم ہو اور خدا تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دیوے سوڈرو اور باز آجاؤ۔کیا تم میں ایک بھی رشید نہیں ؟ وَإِن لَّمْ تَنْتَهُوا فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِنُصْرَةٍ مِّنْ عِنْدِهِ وَ يَنْصُرُ عَبْدَهُ وَيُمَزِّقُ أَعْدَاءَهُ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا۔(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲ ۵ تا ۵۵) اے وے لوگو! جو نیکی اور راستبازی کے لئے بلائے گئے ہو۔تم یقیناً سمجھو کہ خدا کی کشش اس وقت تم میں پیدا ہو گی اور اسی وقت تم گناہ کے مکروہ داغ سے پاک کئے جاؤ گے جب کہ تمہارے دل یقین سے بھر جائیں گے۔شائد تم کہو گے کہ ہمیں یقین حاصل ہے۔سو یا د رہے کہ یہ تمہیں دھوکا لگا ہوا ہے۔یقین تمہیں ہرگز حاصل نہیں کیونکہ اس کے لوازم حاصل نہیں وجہ یہ کہ تم گناہ سے باز نہیں آتے۔تم ایسا قدم آگے نہیں اٹھاتے جو اٹھانا چاہئے۔تم ایسے طور سے نہیں ڈرتے جو ڈرنا چاہئے۔خود سوچ لو کہ جس کو یقین ہے کہ فلاں سوراخ میں سانپ ہے وہ اس سوراخ میں کب ہاتھ ڈالتا ہے اور جس کو یقین ہے کہ اس کے کھانے میں زہر ہے وہ اس کھانے کو کب کھاتا ہے۔اور جو یقینی طور پر دیکھ رہا ہے کہ اس فلاں بن میں ایک ہزار خونخوار شیر ہے اس کا قدم کیونکر بے احتیاطی اور غفلت سے اس بن کی طرف اُٹھ سکتا ہے۔سو تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں اور تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں کیونکر گناہ پر دلیری کر سکتی ہیں اگر تمہیں خدا اور جزا سزا پر یقین ہے۔گناہ یقین پر غالب نہیں ہوسکتا اور جبکہ تم ایک بھسم کرنے اور کھا جانے والی آگ کو دیکھ رہے ہو تو کیونکر اُس آگ میں اپنے تئیں ڈال سکتے ہو اور یقین کی دیواریں آسمان تک ہیں شیطان اُن پر چڑھ نہیں سکتا۔ہر ایک جو پاک ہوا وہ یقین سے پاک ہوا یقین دُکھ اُٹھانے کی قوت دیتا ہے۔یہاں تک کہ ایک بادشاہ کو تخت سے اُتارتا ہے اور فقیری جامہ پہناتا ہے۔یقین ہر ایک دکھ کو سہل کر دیتا ہے یقین خدا کو دکھاتا ہے۔ہر ایک کفارہ جھوٹا ہے اور ہر ایک فدیہ باطل لے اور اگر تم باز نہیں آؤ گے تو عنقریب اللہ اپنی نصرت کے ساتھ آئے گا اور اپنے بندے کی مدد کرے گا اور اس کے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکو گے۔