حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 92
۹۲ آنکه، نفس اوست، از هر خیروخوبی بے نصیب می تراشد عیبها در ذات خير المرسلیں ! آنکه در زندان ناپاکی ست محبوس و اسیر بست در شان امام پاک بازاں نکتہ چیں ہے تیر بر معصوم آسمان را ے سزد بارد جیسے بد گہر گر سنگ بارد بر زمین سے پیش چشمان شما اسلام در خاک افتاد ہے چیست عذرے پیش حق اے مجمع المتنقمی ہر طرف کفر است جوشاں ہیچو افواج یزید دین حق بیمار و بے کس ہنچو زین العابدین ھے مردم ذی مقدرت مشغول عشرت ہائے خویش کرم خندان و نشسته با بُتان نازنیں 1 عالمان را روز و شب باہم فساد از جوش نفس زاہدان غافل سراسر از ضرورت ہائے دیں کے ہر کسے از بهر نفس دون خود طرفے گرفت طرف دیں خالی شد و هر دشمنے جست از کمیں ۵ فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۱ تا ۴۵) لے وہ شخص جس کا نفس ہر ایک خیر و خوبی سے محروم ہے وہ بھی حضرت خیر الرسل کی ذات میں عیب نکالتا ہے۔سے وہ جو خود ناپاکی کے قید خانے میں اسیر و گرفتار ہے وہ بھی پاکبازوں کے سردار کی شان میں نکتہ چینی کرتا ہے۔بداصل اور خبیث انسان اس معصوم پر تیر چلاتا ہے آسمان کو مناسب ہے کہ زمین پر پتھر برسائے۔تمہاری آنکھوں کے سامنے اسلام خاک میں مل گیا۔پس اے گروہ امراء تمہارا خدا کے حضور میں کیا عذر ہے۔افواج یزید کی مانند ہر طرف کفر (جوش میں) ہے اور دین حق زین العابدین کی طرح بیمار و بیکس ہے۔امراء عیش و عشرت میں مشغول ہیں اور حسین عورتوں کے ساتھ خرم و خنداں بیٹھے ہیں۔کے علماء دن رات نفسانی جوشوں کے باعث آپس میں لڑ رہے ہیں اور زاہد ضروریات دین سے بالکل غافل ہیں۔ہر شخص نے اپنے ذلیل نفس کی خاطر ایک پہلو اختیار کر لیا۔اس لیے دین کا پہلو خالی ہے اور ہر دشمن کمین گاہ میں سے کود پڑا۔