حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 91

۹۱ وہ دوسرا عالم جس کی خوشیاں بچے اطمینان کے لائق اور دائگئی ہیں۔وہ ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی تمہیں یاد نہیں آتا۔کیا بدقسمتی ہے کہ ایک بڑے امر اہم سے تم قطعاً غافل اور آنکھیں بند کئے بیٹھے ہو اور جو گزشتنی گزاشتنی امور ہیں اُن کی ہوس میں دن رات سرپٹ دوڑ رہے ہو۔تمہیں خوب خبر ہے کہ بلاشبہ وہ وقت تم پر آنے والا ہے جو ایک دم میں تمہاری زندگی اور تمہاری ساری آرزوؤں کا خاتمہ کر دے گا۔مگر یہ عجیب شقاوت ہے کہ باوجود اس علم کے پھر اپنے تمام اوقات دنیا طلبی میں ہی برباد کر رہے ہو اور دنیا طلبی بھی صرف وسائل جائزہ تک محدود نہیں بلکہ تمام نا جائز وسیلے جھونٹھ اور دغا سے لے کر ناحق کے خون تک تم نے حلال کر رکھے ہیں اور ان تمام شرمناک جرائم کے ساتھ جو تم میں پھیلے ہوئے ہیں کہتے ہو کہ آسمانی نور اور آسمانی سلسلہ کی ہمیں ضرورت نہیں بلکہ اس سے سخت عداوت رکھتے ہو اور تم نے خدا تعالیٰ کے آسمانی سلسلہ کو بہت ہلکا سمجھ رکھا ہے یہاں تک کہ اس کے ذکر کرنے میں بھی تمہاری زبانیں کراہت سے بھرے ہوئے الفاظ کے ساتھ اور بڑی رعونت اور ناک چڑھانے کی حالت میں ہجو کا حق ادا کرتی ہیں اور تم بار بار کہتے ہو کہ ہمیں کیونکر یقین آوے کہ یہ سلسلہ منجانب اللہ ہے۔میں ابھی اس کا جواب دے چکا ہوں کہ اس درخت کو اُس کے پھلوں سے اور اس نیر کو اس کی روشنی سے شناخت کرو گے۔میں نے ایک دفعہ یہ پیغام تمہیں پہنچا دیا ہے اب تمہارے اختیار میں ہے کہ اس کو قبول کردیا نہ کرو اور میری باتوں کو یاد رکھو یا لوح حافظہ سے بھلا دو۔جیتے جی قدر بشر کی نہیں ہوتی پیارو یاد آئیں گے تمہیں میرے سخن میرے بعد ے خاتمه مشتمل بر مرثیہ تفرقہ حالتِ اسلام سزد گرخوں ببارد دیدہ ہر اہل دیں قحط المسلمین بر پریشاں حالی اسلام و و قحط دین حق را، گردش آمد، صعبناک و سهمگیں سخت شورے اوفتاد، اندر جہاں از کفروکیں سے ے مناسب ہے کہ ہر دیندار کی آنکھ خون کے آنسو روئے۔اسلام کی پریشان حالی اور قحط المسلمین پر۔ے خدا کے دین پر نہایت خوفناک اور پُر خطر گردش آگئی۔کفر و شقاوت کی وجہ سے دنیا میں سخت فساد برپا ہوگیا۔