مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 90
۹۰ اور حکیم ابراہیم صاحب لکھنوی اس کے معالج تجویز ہوئے۔مریض کو درم کبد بھی تھا۔ایک دن اس کے منہ سے خون آیا۔معالج حکیم صاحب نے فرمایا کہ یہ بحرانی خون ہے اور ہم کو اس کی صحت کی بہت امید ہے۔ہمارے حکیم صاحب نے آکر یہی بات ظاہر کی۔میں نے عرض کیا کہ اب یہ مر گیا ہے۔خدا تعالیٰ کے عجائبات ہیں۔انسان کی کیا مقدرت ہے۔وہ مریض مرگیا۔عوض معاوض گله ندارد۔حکیم ابراہیم صاحب آئندہ تمسخر سے باز آگئے۔طب کے پڑھنے میں مجھے جو امر بہت نافع نظر آیا اور میں نے خود عمل کیا اور جس میں میں نے بہت فائدہ اٹھایا۔اس کو بیان کرنا شاید مفید ہو۔سو اس میں پہلی بات یہ ہے کہ میں نے مفرد اور مرکب ادویہ کے متعلق بہت دنوں تک حضرت حکیم صاحب سے کبھی بھی سوال نہ کیا کہ یہ مرکب کس طرح بنتا ہے۔یا اس مفرد کا کیا نام ہے۔بات یہ تھی کہ اگر وہ نام بتاتے تو صرف لکھنؤ کا مروج نام فرماتے اور وہ میرے لئے اپنے وطن میں کچھ بھی مفید نہ ہوتا۔مرکبات کے واسطے میں یقین کرتا تھا کہ قرابادینوں کا مطالعہ کافی ہو گا۔اس پر آخر حکیم صاحب نے مجھ سے سنکھیا ( سم الفار ) اور سرخ مرچ کے متعلق سوال فرمایا کہ تم اس کو مفردات سے کس طرح نکالو گے۔( یہ سوال ممکن تھا کہ میرے راستہ میں پہاڑ بنتا کہ میں آئندہ دواؤں کے نام پوچھ لیا کرتا۔مگر میں نے خیال کیا کہ ایک ایک دوا کے بہیں ہیں نام ہوتے ہیں۔خود حکیم صاحب بھی مجھے کب بتا سکتے ہیں) میں نے اپنے مطالعہ کی عادت کے باعث جلد اس کا جواب حاصل کر لیا جس پر وہ خود مطمئن ہو گئے۔دوسری بات نسخہ نویسی کے متعلق تھی۔وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے نسخے لکھا کروں اور مجھے مطلوب تھا کہ میں علم پڑھوں۔جس وقت میں بیماروں کا گھمسان دیکھا تو اپنے دوسرے اساتذہ کے پاس اور علوم کے واسطے چلا جاتا۔کیونکہ حکیم صاحب کے پاس صبح سے عشاء تک اپنا ضروری سبق بھی بمشکل ختم ہو سکتا تھا۔ایک دن مزمن ماشرہ کا مبتلا ایک بیمار آیا اس کا سر اس قدر موٹا ہو گیا تھا جیسے ہاتھی کا۔اس کے ہونٹوں اور آنکھوں کی شکل بھی بڑی بھیانک تھی۔میں اس سے دو تین روز پہلے یہ مرض پڑھ چکا تھا۔مگر مریض کو دیکھ کر سمجھ میں نہ آیا کہ یہ ماشرہ ہے۔ادھر