مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 88 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 88

AA لائق ہے۔جس کے سپر د روٹی پکانا کیا گیا۔اس روٹی کے انتظام اور دعا کے بعد حکیم صاحب کے حضور پُر تکلف لباس میں جا پہنچا۔جاتے ہی اپنی دعا کی قبولیت کا یہ اثر دیکھا کہ حکیم صاحب نے فرمایا۔آپ اس وقت آئے اور بے اجازت چلے گئے۔یہ شاگردوں کا کام ہے ؟ آئندہ تم روٹی ہمارے ساتھ کھایا کرو اور یہیں رہو یا جہاں ٹھرے ہو وہاں رہو مگر روٹی یہاں کھایا کرو۔میں نے کچھ عذر معذرت کی پھر آپ نے فرمایا کیا پڑھنا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا طب پڑھنا چاہتا ہوں۔مجھے اس وقت یہ بھی اطلاع نہ تھی کہ دنیا میں بڑا طبیب کون ہے۔حکیم صاحب نے فرمایا۔طب کہاں تک پڑھنا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا۔افلاطون کے برابر۔مجھے کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ افلاطون کوئی حکیم ہے یا طبیب - آپ نے ہنس کر فرمایا کچھ تو ضرور ہی پڑھ لو گے۔اگر کسی چھوٹے کا نام لیتے تو میرے دل کو بہت صدمہ پہنچتا۔کیونکہ ہر ایک انسان اپنی غایت مطلوب تک نہیں پہنچتا۔حکیم الہ دین صاحب لاہوری مرحوم اور حکیم محمد بخش لاہوری مرحوم سے کسی قدر موجز تو میں پڑھ ہی چکا ہوں اور علمی مباحثات کے لئے میری پہلی تعلیم کافی سے بھی زیادہ تھی۔میں نے عرض کیا۔قانون شروع کرا دو۔اس پر حکیم صاحب نے تبسم کیا۔پھر میں نے جلد جواب دیا کہ میں تو خدائے تعالیٰ کی کتاب بھی سمجھ سکتا ہوں اور سمجھتا ہوں۔بو علی سینا یا اس کا قانون اس سے بڑے ہیں ؟ حکیم صاحب نے نفیسی کی طرف اور اس کے علمی حصہ کے لئے مجھے مجبور کیا میں نے کتاب شروع کر دی۔ایک ہی سبق تمام دن میں میرے لئے ہرگز قابل برداشت نہ تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ کہیں کوئی اور سبق پڑھوں مگر وہابیت کا خدائے تعالیٰ بھلا کرے۔اس نے کوئی جگہ پسند نہ کرنے دی۔پھر بھی مولوی فضل الله نام فرنگی محلی سے میری سفارش ہوئی اور انہوں نے ملا حسن یا حمد اللہ پڑھانے کا وعدہ کیا اور شروع کرادی۔میں نے چند سبق ہی پڑھے ہونگے کہ تنہائی میں اپنی گزشتہ عمر کا مطالعہ شروع کیا اور اس بات تک پہنچ گیا کہ اگر تو اسی طرح پڑھے گا تو ان علوم سے متمتع ہونے کے دن تجھ کو کب ملیں گے اور میرے دل نے فیصلہ کر لیا کہ -