مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 291
۲۹۱ یہ دلیل اس بات کی ہے کہ میں مسلمان ہوں۔میں نے ایک شخص سے جو میرے پاس بیٹھا تھا کہا کہ مجھ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسلمان نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السنينَ وَالْحِسَاب بھلا مسلمانوں سے زیادہ کون حساب کو جان سکتا ہے۔(۱۲۹ مئی ۱۹۰۹ء) میں نے تمام دنیا کی تاریخوں کو ٹولا ہے ہمیشہ وہ لوگ جو قیامت کے قائل نہیں، ان لوگوں سے جو قیامت کے قائل ہیں، شکست کھاتے رہے ہیں۔قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (۲۴ جون ۶۱۹۰۹ ) میں نے پاگل خانہ کے ایک اعلیٰ افسر سے دریافت کیا کہ مجنون و غیر مجنون میں کیا فرق ہے؟ اس نے کہا کہ میں رات دن یہاں رہتا ہوں اور غور کرتا ہوں لیکن آج تک میری سمجھ میں تو کوئی معیار پاگل اور غیر پاگل کا نہیں آیا۔اسی طرح ایک وکیل سے پوچھا۔اس نے کہا قانون میں بھی مجنون و غیر مجنون کا کوئی مابہ الامتیاز نہیں ہے۔در حقیقت پاگل میں خلق عظیم نہیں ہوتا اور پاگل جس قدر محنت کرتا ہے اس کا کوئی اجر اس کو نہیں ملتا۔(۳۰) جولائی ۱۹۰۸ء) میں نے ایک مرتبہ نبی کریم می علم کو خواب میں دیکھا کہ مجھ کو کمر پر اس طرح اٹھا رکھا ہے جس طرح بچوں کو مشک بناتے ہیں۔پھر میرے کان میں کہا کہ تو ہم کو محبوب ہے۔(۱۹ر اگست ۱۹۰۸ء) میں نے ایک روز دودھ اور جلیبیاں خوب کھالیں۔اس کی وجہ سے ریاح بہت خارج