مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 91
91 حکیم صاحب نے فرمایا کہ اس کا نسخہ لکھو۔میں سخت گھبرایا۔آخر میرے پاس تو دعاہی کا ہتھیار تھا۔معاً حکیم صاحب نے بے ساختہ فرمایا کہ ایسے ماشرہ دنیا میں کم دیکھنے میں آتے ہیں۔تب میں نے عرض کیا کہ اس مریض کو دیکھنے میں بہت جمگھٹا ہو گیا ہے۔یہ اس کو مکان پر لے جائیں اور پھر اگر نسخہ لے جائیں۔اس طرح وقت کو ٹلا دیا اور خود اپنے کمرہ میں جا کر حکیم صاحب کی زیر نظر کتابیں شرح گیلانی قانون پر ، ترویح الارواح طبری اور مجموعہ بقائی کو دیکھنا شروع کیا اور ان تمام کتابوں سے ایک مشترکہ نسخہ ضماد اور طلاء اور کھانے کا لکھ لیا اور کتابیں اپنی اپنی جگہ پر رکھوا دیں اور نسخے قریب یاد کرلئے۔تیمار دار دیر کے بعد آیا اور حکیم صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ آپ نے نسخہ لکھا ہے ؟ میں نے کہا کہ ابھی لکھ دیتا ہوں۔قلم اٹھا کر نسخے لکھ دیئے اور حکیم صاحب کے حضور پیش کئے۔حکیم صاحب نے ان کو دیکھ کر مجھے اشارہ کیا کہ شرح گیلانی ، ترویح اور مجموعہ بقائی لاؤ۔میں لایا۔میرے نسخوں کو سامنے رکھ کر سرسری نظر ان کتابوں پر ڈال لی اور نسخے تیمار دار کو دے دیئے۔جب فراغت ہوئی تو اپنا بیاض بڑی محبت سے مجھ کو عطا کیا اور فرمایا۔تم اس کے اہل ہو۔دے کر آپ حرم سرا میں تشریف لے گئے۔میں نے دیکھا اس میں کچھ نسخے تھے۔اس بیاض کو میں نے مطب میں ہی چھوڑ دیا اور اپنے کمرہ میں چلا گیا۔کسی دوسرے وقت حکیم صاحب آئے اور بیاض کو اس طرح کھلا پڑا ہوا دیکھ کر اٹھایا اور مجھے دیا۔میں نے عرض کیا اس کو کیا کروں۔نسخہ لکھنا تو تشخیص پر منحصر ہے اور اس میں کوئی تشخیص نہیں۔اس پر متبسم ہو کر کہا کہ بات تو ٹھیک ہے۔تیسری بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ درسی کتب میں قانونچہ - موجز ، اقصرائی نفیسی، سدیدی ، شرح اسباب کا لمبا سلسلہ مجھے حیرت زدہ کرتا تھا اور مجھ کو یقین تھا کہ جیسے اور علوم میں ملکہ پیدا ہونے کے بغیر کوئی علم نہیں آسکتا اسی طرح طب بھی ایک ملکہ کے بغیر کیونکر مفید ہو سکتا ہے۔جیسے درسی کتابوں میں علی العموم یہ غلط راہ اختیار کی گئی ہے کہ مختصرات اور حواشی در حواشی میں وقت ضائع کیا جاتا ہے۔دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونکنے لگا۔مجھ کو اپنی گذشتہ عمر کے ضائع ہونے کا سخت ہی افسوس تھا۔اس لئے میں نے صرف قانون ہی