مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 65 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 65

۶۵ اسلام چونکہ حق کے اظہار کے لئے آیا ہے جیسا کہ اس سورۃ سے ظاہر ہے اس لئے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تمہیں دین کی بہت سے باتیں پہنچائی ہیں وہاں ہم تم کو دنیا کی ایک بات سناتے ہیں مگر دنیا کی نہیں ہم اسے دین ہی سمجھتے ہیں اور دین ہی سمجھ کر کہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے سارے دنیا کے کام بلکہ دین کے بھی سب کام امن پر موقوف ہیں۔اگر امن قائم نہ رہے گا تو کوئی کام نہیں ہو سکے گا۔جس قدر امن بڑھ کر ہو گا اسی قدر حق کا ابلاغ عمدہ طور سے ہو گا۔اس واسطے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اس کے حامی رہے۔آپ نے طوائف الملوکی میں جو مکہ معظمہ میں تھی خود رہ کر عیسائیوں کی سلطنت میں جو حبشہ میں تھی صحابہ کرام کو رکھ کر ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہمیں کس طرح زندگی بسر کرنی چاہئے۔اس زندگی کے فرائض میں سے امن ہے۔اگر امن نہ ہو تو کسی طرح کا کوئی کام دین یا دنیا کا عمدگی سے نہیں کر سکتے۔میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ امن کی کوشش کرو۔امن کے لئے ایک تو طاقت کی ضرورت ہے جو گورنمنٹ کے پاس ہے۔دوسرے نیک چلنی اور گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری کی جو تمہارا فرض ہے۔میں اس امر کو کسی کی خوشامد کی غرض سے نہیں بلکہ حق پہنچانے کی غرض سے کہتا ہوں کہ امن پسند جماعت بنو تا کہ ہر قسم کی ترقیوں کا تم کو موقع ملے اور چین سے زندگی بسر کرو۔اس کا بدلہ مخلوق سے مت مانگو بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرو اور اسی سے مانگو۔یہ خوب یاد رکھو کہ بلا امن کوئی مذہب نہیں پھیلتا اور نہ پھول سکتا ہے۔پس تم امن کے قائم رکھنے میں ہمیشہ گورنمنٹ کا وفاداری سے ساتھ دو۔میں اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت صاحب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے اس احسان کا بدلہ اگر امن کے قائم کرنے کے لئے کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ اس کا نتیجہ ضرور دے گا۔اور اگر خلاف ورزی کریں گے تو اس کے بد نتیجہ کا ضرور منتظر رہنا پڑے گا۔پھر اس کے بعد ایک اور بات کہتا ہوں کہ باہم محبت کو بڑھاؤ اور بغضوں کو دور کرو اور محبت بڑھ نہیں سکتی جب تک کسی قدر تم صبر سے کام نہ لو اور صبر کرنے والے کے ساتھ