مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 64 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 64

۶۴ افعال میں لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْيٌّ ہے۔میں اللہ تعالٰی کے ملائکہ پر ایمان رکھتا ہوں جو تمام نیک تحریکوں کے محرک ہیں اور ان پر ایمان لانے کی یہی غرض ہے کہ ہر نیک تحریک پر انسان عمل کرے۔میں اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں پر ایمان رکھتا ہوں خواہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے یا نہیں۔وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے راست باز بندے تھے اور انہوں نے مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا کلام اپنے اپنے وقت پر پہنچایا۔میں اس بات پر بھی ایمان رکھتا ہوں کہ تمام نبوتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئیں۔بلکہ میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں اور بصیرت اور شرح صدر کے ساتھ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف تمام نبوتوں کے جامع اور خاتم تھے بلکہ آپ خاتم النبین ، خاتم الرسل اور خاتم کمالات انسانی تھے۔یہ میرا یقین ہے کہ تمام انبیاء اور تمام اولیاء اور تمام انسانی کمالات کے آپ جامع اور خاتم ہیں اور اب آپ کے بعد میرا واہمہ بھی تجویز نہیں کرتا کہ کسی شخص میں ایسے کمالات ہوں۔میں اس کے متعلق حضرت صاحب کا ایک شعر سناتا ہوں۔< انکار ول و سکے آں شاہ دیں خادمان و چاکرانش را میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے کمالات کے لئے جب ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کیسے پاک گروہ تھے تو یہ قصہ معلوم ہوتا ہے۔تمہارا وجود اس گاؤں میں خود گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ احمد کا غلام بننے سے کیا فضل کرتا ہے۔اسی طرح پر میں خدا کی تقدیر ، حشر و نشر پل صراط جنت و نار پر ایمان رکھتا ہوں۔میں اب تم کو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ میں نے لمبا خطبہ نہیں سنایا۔میری غرض یہ بھی ہے کہ میرے پھر تقریر کرنے تک اگر کوئی اور تمہیں تقریریں سنائیں یا باتیں بتائیں گے تو ہمارے مذہب اور معتقدات کا یہ معیار ہوگا۔اگر اس کے موافق کوئی بات ہو تو ہماری طرف سے سمجھو اور اگر اس کے خلاف ہو تو وہ ہمارے عقائد کے مطابق نہیں۔