مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 63

۶۳ قرآن مجید کے کمالات کا اظہار ہو گا۔اس کتاب کو لے کر ہمیں کسی حملے سے دنیا میں رہ کر گھبرانے کی حاجت نہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے اور تجربہ نے بتادیا ہے کہ نہ اس میں تحریف ہوگی اور نہ یہ دنیا سے اٹھے گی۔پس یہ کتاب کامل کتاب ہے اور یہی خالق فطرت نے بتا دیا ہے تو اس پر کسی حملہ کا ڈر نہیں اور نہ گھبرانے کی حاجت ہے۔ہاں اگر ڈر ہے تو اس بات کا کہ بعض گھروں سے نکل کر دو سرے گھروں میں چلی جائے گی تو پچھلے بزرگوں کی روح کو کیا مال ہو گا۔پس خوف ہے تو یہ ہے کہ کوئی اس کی اتباع سے نہ نکل جائے۔موجودہ حالت میں میں دیکھتا ہوں کہ کچھ امراء ہیں کچھ علماء اور سجادہ نشین ہیں اور کچھ وہ نوجوان ہیں جو قوم کے لئے کالجوں میں تعلیم پانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔جب عملی رنگ میں یہی لوگ مذہبی امور میں ست ہوں تو عوام مخلوق کا کیا حال ہو سکتا ہے۔اس لئے سورۃ العصر میں نے پڑھی ہے اور میرا مطلب اس میں یہ ہے کہ زمانہ جس طرح پر تیزی سے گزر رہا ہے اسی طرح ہماری عمریں تیزی سے گزر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ شریف میں جہاں انسانی عمر کے اس طرح تیزی سے گزرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ساتھ ہی اس سورۃ میں اس کا علاج بتایا ہے کہ تمہیں زمانہ کی پروا نہیں اگر ہمار ا حکم مان لو۔اس حکم کی تعمیل سے تم زندہ جاوید ہو جاؤ گے اور وہ یہ ہے کہ آپ مومن بنو اور اعمال صالحہ کرو۔دوسرے کو مومن بناؤ اور حق کی وصیت کرد - حق کے پہنچانے میں تکالیف سے نہ ڈرو اور صبر و استقلال سے کام لو۔اس علاج پر اگر مومن عمل کرے اور اس کو اپنا دستور العمل بنالے تو یقینا یقیناوہ ہمیشہ کی زندگی پالے گا۔بہر حال یہ سورۃ العصر وہ سورت کریمہ ہے کہ جب صحابہ کرام آپس میں ملتے تھے تو اس کو پڑھ لیا کرتے تھے۔آج تم اور ہم بھی ملے ہیں اور نہیں معلوم آئندہ ہمیں ملنے کا موقعہ ہو گایا نہیں۔اس لئے میں نے اس سنت پر عمل کرنے کی نیت سے اس سورت کو پڑھا ہے اور میں نے چاہا ہے کہ وصیت الحق کے طور پر تمہیں سنادوں۔سنو! میں اللہ تعالی پر ایمان رکھتا ہوں کہ وہ اپنی ذات میں یکتا، اپنی صفات میں بے ہمتا اپنے اسماء اور