مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 62 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 62

کا دعوی کرے اور بائیں نماز کا تارک ہو اور قرآن کریم کی اتباع میں سستی کرے ، وہ اپنے اس لا اله الا اللہ کے دعوئی میں سچا نہیں جیسا کہ یہ آیت ظاہر کرتی ہے۔اس کے بعد حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اقرار کے ساتھ ہمیں ضرورت پڑتی ہے کہ ہم قرآن شریف میں دیکھیں کہ آپ کس درجہ کے انسان تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند معلوم کرنے کے لئے مومنوں کو دو آیتیں جو ادنیٰ تعداد شہادت کی ہے، سامنے رکھنی پڑتی ہیں۔ایک جگہ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ اور دوسری جگہ فرمایا - كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيماً۔اب غور کرو کہ اللہ تعالٰی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو عظمتوں کا ذکر کیا ہے۔ایک تو عظیم اخلاق پر ہونا ہی بڑا ہوتا ہے پھر جس کو اللہ بڑا بنائے اس کا خیال کرو کہ وہ بڑائی کس شان کی ہوگی۔اللہ تعالیٰ جو کامل الصفات ہستی ہے اس کی طرف سے جس کو بڑائی عطا ہو وہ بڑائی ایسی نہیں ہو سکتی جس کا وہم یا اندازہ ہو سکے اور یہ بڑائی ایک تو اخلاق میں عطا کی۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بے مثل اخلاق کا اندازہ ہو سکتا ہے۔پھر عظیم فضل آپ پر کیا۔اب غور کرو جس کو یہ دو عظمتیں حاصل ہوں اور فضل عظیم اور خلق عظیم والا جن کا مقتدا ہو۔انہیں کسی اور کی ریجھ ہی کیا ہو سکتی ہے ؟ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - پھر جو کتاب اللہ جل شانہ نے اس کامل انسان صاحب خلق عظیم و فضل عظیم پر نازل کی اس کے لئے دو گواہیاں میں پیش کرتا ہوں۔ایک یہ کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا۔اِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۔اور پھر فرماتا ہے لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهِ۔پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا آپ وعدہ فرمایا اور دوسری آیت میں یہ فرمایا کہ باطل اس پر اپنا اثر نہیں کر سکتا۔اب جس کتاب کا محافظ حق سبحانہ ہو اور وہ آئندہ کے لئے پیشگوئی کرتا ہے کہ اس کو باطل کرنے والی چیز نہیں بھیجیں گے تو ہمیں سائنس کا کیا ڈر اور کسی اندرونی یا بیرونی حملے کا کیا خوف؟ میں نے ہمیشہ یہ ظاہر کیا ہے کہ جس قدر سائنس اور دیگر علوم ترقی کریں گے اسی قدر