مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 61
تعالی کی معبودیت میں ان کو شریک کر لیا گیا۔اس گند سے دنیا کو بچانے کے لئے آپ نے اس حصہ کو رکھا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگ ایک عبد سمجھیں اور آئندہ چونکہ اس امت میں ولی ہوں گے اس لئے انہیں بھی کوئی معبود قرار نہ دے لے۔پس میں اَشْهَدُ أنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کو کلمہ کا متمم یقین کرتا ہوں اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ اس جزو پر ایمان لانے کے بدوں مومن بن ہی نہیں سکتا۔جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے جو لا ADATA ATLANTA اللہ کا نشا ء ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حسنات کاملہ پر غور کرتا اور اس کے اسماء اور افعال پر سوچتا ہے تو یقیناً اسے اللہ تعالیٰ کے فرشتوں اللہ تعالیٰ کی کتابوں اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور تقدیر اور حشر نشر پل صراط جنت و نار پر ایمان لانا لا بد کی ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے صفات کے ہی ثمرات ہیں اور ایمان باللہ کے لئے لابد ہے کہ وہ اس کو صفات کاملہ سے موصوف یقین کرے۔چونکہ اسی نے تقدیر کو بنایا۔ملائکہ کو پیدا کیا۔جنت و نار کو پیدا کیا۔انبیاء علیہم السلام کو بھیجا۔ان کو صحائف دیئے۔اس لئے ملائکہ پر ایمان لانا۔خدا کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، تقدیر، حشر و نشر پل صراط جنت و نار پر ایمان لانا ضروری ہو جاتا ہے۔پس میرے ایمان میں ایمان باللہ ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ ان باتوں پر بھی ایمان نہ لاوے۔پھر ایمان کے بعد اس کا اثر انسان کے جوارح پر ہوتا ہے۔جو راج سے جو امور سرزد ہوتے ہیں ان کا نام اعمال ہے۔ان میں نماز ہے۔روزہ ہے۔حج ہے۔اخلاق فاضلہ ہیں۔رزائل سے بچنا ہے۔ایمان باللہ اور ایمان کامل کے ساتھ اعمال بھی لابد ہیں۔قرآن کریم سے یہ ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُم عَلَى صَلَا تِهِمْ يُحَافِظُونَ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے تو وہ آخرت پر بھی ایمان لاتا ہے۔یعنی اللہ پر ایمان لانا آخرت پر ایمان لانے کے لئے ضروری ہے۔پھر اس ایمان کا اثر اعمال پر یوں پڑتا ہے کہ ایسے مومن اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔انہیں ضائع نہیں ہونے دیتے۔پس یا د رکھو کہ جو شخص لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ