مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 58
۵۸ اور میری غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو میری نصیحت سنتے ہیں اس بات کے گواہ رہیں کہ میں خدا تعالیٰ کو واحد لا شریک اس کی ذات و صفات میں مانتا ہوں اور میں حضور قلب سے ، یقین سے استقلال سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں اس کی قدرتوں کو بیان کرتے ہوئے کبھی شرمندگی نہیں اٹھاتا۔میں اسے اپنا محبوب مانتا ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سب انبیاء کا سردار اور فخر رسل سمجھتا ہوں اور میں اللہ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل سے اس کی امت میں مجھے بنایا اس کے محبوں میں سے بنایا اس کے دین کے محبوں میں سے بنایا۔اس کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ تم نے دیکھا ہو گا کہ میں سخت بیمار ہو گیا تھا اور میں نے کئی دفعہ یقین کیا تھا کہ میں اب مرجاؤں گا۔ایسی حالت میں بعض لوگوں نے میری بڑی بیمار پرسی کی۔تمام رات جاگتے تھے۔ان میں سے خاص کر ڈاکٹر ستار شاہ صاحب ہیں۔بعضوں نے ساری ساری رات دبایا اور یہ سب خد اتعالیٰ کی غفور رحیمیاں ہیں۔ستاریاں ہیں جو ان لوگوں نے بہت محبت اور اخلاص سے ہمدردی کی۔اور یاد رکھو کہ اگر میں مرجاتا تو اسی ایمان پر مرتا کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اپنی ذات و صفات میں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بچے رسول اور خاتم انبیاء اور فخر رسل ہیں اور یہ بھی میرا یقین ہے کہ حضرت مرزا صاحب مہدی ہیں، مسیح ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بچے غلام ہیں۔بڑے راست باز اور کچے ہیں۔گو مجھ سے ایسی خدمت ادا نہیں ہوئی جیسی کہ چاہئے تھی اور ذرہ بھی ادا نہیں ہوئی۔میں آج اپنی زندگی کا ایک نیا دن سمجھتا ہوں۔گو تم یہ بات نہیں سمجھ سکتے مگر اب میں ایک نیا انسان ہوں اور ایک نئی مخلوق ہوں۔میرے قومی پر میرے عادات پر میرے دماغ پر میرے وجود پر میرے اخلاق پر جو اس بیماری نے اثر کیا ہے، میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک نیا انسان ہوں۔مجھے کسی کی پروا نہیں۔میں ذرا کسی کی خوشامد نہیں کر سکتا۔میں بالکل الگ تھلگ ہوں۔میں صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں۔وہی میرا رب ہے کیونکہ اس بات کا بھروسہ نہیں کہ آئندہ ہفتہ تک میری زندگی ہے کہ نہیں۔لہذا میں تم کو بتانا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ