مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 40
۴۰ اور وہ میری ملاقات کے لئے نہایت میلان دل کے ساتھ ایسا مضطرب رہتا ہے جیسے دولت مند سونے کے ساتھ محبت و یقین کے پاؤں سے چل کر دور دراز ملکوں سے میرے پاس آتا ہے وہ ایک دلر با جوان ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں اس سے محبت کرتا ہوں۔اپنی تمام طاقت سے میری طرف سعی کرتا ہے اگر چہ اس کو اتنی ہی فرصت مل جائے جو اونٹنی کے دو دفعہ دودھ دوہنے کے درمیان ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس پر قسم قسم کے انعام کئے ہیں اور اس کی بقا کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کی مدد کی ہے۔اس کو میرے دل سے عجیب تعلقات ہیں۔میری محبت میں قسم قسم کی علامتیں اور بد زبانیاں اور وطن مالوف اور دوستوں کی مفارقت اختیار کرتا ہے۔میرے کلام کے سننے کے لئے اس پر وطن کی جدائی آسان ہے اور میرے مقام کی محبت کے لئے وہ اپنے اصلی وطن کی یاد کو چھوڑ دیتا ہے اور میرے ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔اور میں اس کو اپنی رضا میں فانیوں کی طرح دیکھتا ہوں۔جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ بلا توقف پورا کرتا ہے۔اور جب کسی کام کی طرف مدعو کیا جاتا ہے تو وہ سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں سے ہوتا ہے۔اس کا دل سلیم ہے اور خلق عظیم اور کرم ابر کثیر کی طرح ہے۔اس کی صحبت بدحالوں کے دلوں کو سنوارتی ہے اور اس کا حملہ دین کے دشمنوں پر شیر ببر کے حملہ کی طرح ہے۔کفار پر اس نے پتھر برسائے ہیں۔آریوں کے مسائل کو اس نے کھودا۔اور نقب لگا کر ان بیوقوفوں کی زمین میں اترا اور ان کا تعاقب کیا اور ان کی زمین کو تہ و بالا کر دیا اور اپنی کتابوں کو مکذبین کے رسوا کرنے کے لئے نیزوں کی طرح سیدھا کیا۔پس خدا تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ویدوں کو شرمندہ کیا۔پس ان کے منہ پر راکھ ڈالی گئی اور سیاہ کر دیا گیا اور مُردوں کی