مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 39

۳۹ نور سے نور لیتا ہے۔وہ ایک عجیب و غریب مرد ہے۔اس کے ایک ایک لمحہ کے ساتھ انوار کی نہریں بہتی ہیں۔اس کے ایک ایک رشحہ کے ساتھ فکروں کے مشرب پھوٹتے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ خیر الواهبين ہے۔وہ نخبة المتكلمين ہے اور زبدة المؤلفين - لوگ اس کے زلال سے پیتے ہیں اور اس کی گفتگو کی شیشیاں شراب طہور کی طرح خریدتے ہیں۔وہ ابرار اور اخیار اور مومنین کا فخر ہے۔اس کے دل میں لطائف اور دقائق اور معارف اور حقائق کے انوار ساطعہ ہیں۔جب وہ اپنے پاک و صاف کلمات اور اچھوتے ، فی البدیہ ، عجیب و غریب ملفوظات کے ساتھ کلام کرتا ہے تو گویا دلوں اور روحوں کو لطیف راگوں اور داؤدی مزامیر کے ساتھ فریفتہ کرتا ہے اور کھلے کھلے معجزوں کے ساتھ لوگوں کو گھٹنوں کے بل بٹھا لیتا ہے۔جب کلام کرتا ہے تو ایسی حکمتیں منہ سے نکالتا ہے کہ گویا وہ پانی ہے جو پے در پے ٹپک رہا ہے اور سامعین کے مونہوں کی طرف جا رہا ہے اور میں نے اپنے فکر کے گھوڑے کو اس کے کمال کی طرف چلایا تو میں نے اس کو اس کے علوم اور اعمال اور نیکی اور صدقات میں یکتائے زمانہ پایا۔وہ نہایت ذکی الذہن ، حديد الفوائد، فصیح اللسان، نخجہ" الابرار اور زبدۃ الاخیار ہے۔اس کو سخاوت اور مال خطا کیا گیا ہے۔امیدیں اس کے ساتھ وابستہ کی گئی ہیں۔پس وہ خدام دین کا سردار ہے۔اور میں اس پر رشک کرنے والوں میں سے ہوں۔امیدوں والے اس کے صحن میں اترتے ہیں اور اس کی ہتھیلی سے ابر سخاوت طلب کرتے ہیں۔جو اس کے گھر کا قصد کرتا ہے اور اس کی ملاقات کرتا ہے تو وہ اس سے منہ نہیں پھیرتا اور فقراء میں سے جو اس کے پاس آتا ہے وہ اس کی خوشبو سے معطر ہو جاتا ہے