مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 28
۲۸ میں اس بات سے واقف ہوں کہ جب تک تنقید و رائے زنی نہ کی جائے اور مناسب وقعوں پر نتائج کی طرف ناظرین کو متوجہ نہ کیا جائے۔سوانح عمری میں لطف پیدا نہیں ہوتا لیکن اس لئے کہ ز عشق ناتمام با جمال یار مستغنی است باب درنگ و خال و خط چه حاجت روئے زیبا را کوئی نوٹ یا حاشیہ تک لکھنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور مکرمی شیخ یعقوب علی صاحب کی حیات النور کا کام خود انجام دینا غیر ضروری خیال کیا۔یہ کتاب متن ہے۔حیات النور ایک شرح حامل المتن ہوگی (انشاء اللہ تعالی) حیات النور کی بھی ہم کو ضرورت ہے اور بڑی ضرورت۔میں اپنے ناظرین سے التماس کرتا ہوں کہ وہ شیخ صاحب پر حیات النور کے جلد شائع کرنے کے لئے ضرور تقاضا کریں۔میں بھی عرض کرتا ہوں بے نیازی حد سے گذری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا اس اعتراض کا بھی مجھ کو اندیشہ نہیں رہا کہ ”سوانح عمری چونکہ ایک مرید و معتقد نے لکھی ہے لہذا خوش عقیدگی نے تنقید کے کام کو ناقص رکھا ہو گا"۔اصل حالات صحیح واقعات ناظرین کے سامنے ہیں۔خود غور فرما دیں اور نتائج اخذ کریں۔اب میں اخبار بدر سے حضور امیر المومنین کا شجرہ نسب نقل کرنے کے بعد وہ الفاظ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت امیرالمومنین کی نسبت ارقام فرمائے ہیں اس مقدمہ میں درجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔