مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 27
۲۷ عبد الکریم صاحب کی سوانح عمریوں کی طرح حیات النور کی اشاعت میں بھی غیر معمولی انتظار کی زحمت برداشت کرنا ہمارے لئے مقدر ہے۔لہذا خدائے تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے حیات النور کے خمیازہ کشوں کے لئے ایک اور سامان تسکین سیا فرمایا۔خلاصہ کلام یہ کہ میں نے شروع ہی سے دعاؤں کو اپنے کام کا سنگ بنیاد بنایا اور خدائے تعالیٰ ہی نے ہر موقع پر اپنی قدرت کا ہاتھ دکھایا۔ہاں! اس بات کا اظہار بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ نے یہ عزت میرے حصہ میں لکھی تھی کہ میں حضور سے عرض کروں کہ اپنی سوانح عمری خود لکھوائیں اور وہ گذارش درجہ قبولیت کو پہنچے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنی اس حیرت کا ذکر کروں کہ میں پنسل کاغذ لے کر حاضر ہو تا، آپ کام کرتے کرتے مجھ کو منتظر بیٹھا ہوا دیکھ کر فرماتے۔اچھا تم بھی کچھ لکھ لو۔آپ فرماتے جاتے اور میں لکھتا جا تا۔باوجود اس کے کہ میں محض خدائے تعالیٰ کے فضل و کرم سے اکثر لیکچراروں کے لیکچر بآسانی حرف بحرف لکھ سکتا ہوں ، بڑی مستعدی اور پوری ہمت کو کام میں لا کر آپ کے تمام الفاظ قلمبند کر سکا ہوں۔اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کس روانی اور طلاقت کے ساتھ تقریر فرماتے ہوں گے۔لیکن جب اپنی جائے قیام پر آکر اس پنسل کے شکستہ لکھے ہوئے کو صاف کرتا تو مجھ کو یاد نہیں کہ عبارت کو چست اور درست بنانے کے لئے کہیں کسی فقرہ میں کوئی تغیر و تبدل کرنا پڑا ہو۔بس آپ کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک حرف اپنی اصلی حالت میں لکھ دیا ہے۔ناظرین خود اندازہ فرمالیں گے کہ اس طرح بے ساختہ اور پختہ تقریر کرنے والے ہندوستان میں کس قدر اشخاص موجود ہیں اور یہ سب کچھ آپ نے ایسی حالت میں لکھوایا ہے کہ گردو پیش بہت سے مریض ، مرید ، مہمان طالب علم اور مختلف ضرورتوں والے جمع ہوتے تھے۔بیچ بیچ میں کئی دفعہ لوگوں کی طرف مخاطب ہونا کسی کو نسخہ لکھنا، کسی کی عرضی پڑھنا وغیرہ یہ کام بھی ہو جاتے تھے اور اس طرح میرے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو کسی قدر آرام کا موقع بھی مل جاتا تھا۔