مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 296 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 296

۲۹۶ مانتے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں۔کہنے لگا پھر تو کوئی خوف کا مقام نہیں کیونکہ ایک نہ ایک دن اس سے نجات تو مل ہی جائے گی۔یہ گفتگو جس وقت ہوئی تو ہم بازار چوک میں تھے۔میں نے فوراً جاتے جاتے کھڑے ہو کر جیب میں سے دو روپیہ نکالے اور اس سے کہا یہاں کوئی شخص تمہارا واقف نہیں۔تم یہ دو روپیہ لے لو اور میں تمہارے سر پر ایک جوت لگالوں۔گھبرا کر کہا کہ کہیں مار نہ بیٹھنا۔مسئلہ میں سمجھ گیا ہوں۔(مدعا یہ کہ قیامت کے دن جہاں اولین و آخرین سب جمع ہوں گے ایک شریف انسان کیسے اپنی ذلت گوارا کر سکتا ہے) (۲۵/ جنوری ۱۹۰۹ء) میرا ایک دوست تھا اس میں بہت سے عیوب تھے میں نے اس سے کہا کہ تم لوگوں کو و عظ بہت کیا کرو۔اس نے اس پر عمل کیا اور اس کے بہت سے عیوب خود ہی کم ہو گئے۔(۲۷ / جنور کی ۱۹۰۹ء) ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ تم فلاں شخص کو کیسا سمجھتے ہو ؟ میں نے کہا۔بہت اچھا۔اس نے پھر بہت اصرار سے کہا کہ تم بہت اچھا سمجھتے ہو ؟ میں نے کہا ہاں۔بعد میں اس نے کہا کہ وہ تو مرزا صاحب کو نہیں مانتا۔میں نے کہا اگر اس کو ملک بھی مان لیں تب بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ ملائکہ نے ایک خلیفہ ( آدم علیہ السلام) پر اعتراض و انکار غلطی سے کیا تھا۔(۸) اگست ۱۹۱۲ء) میں کہیں جا رہا تھا راستہ میں ایک شخص میرے ساتھ ہو لیا۔میں جانتا تھا کہ یہ اپنی بیوی سے بدسلوکی کرتا ہے۔میں نے چلتے چلتے اس سے کہا کہ قرآن کریم میں آیا ہے۔وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔یہ تعلیم کسی کتاب میں سوائے قرآن مجید کے نہیں۔اس نے اسی وقت مجھ سے کہا کہ مجھ کو اجازت ہے ؟ میں نے کہا جاؤ۔وہ سیدھا اپنے گھر پہنچا