مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 295
۲۹۵ سے کہا کہ کچھ پڑھنا اور سیکھنا چاہئے۔کہنے لگے کہ بند ر سیکھا کرتے ہیں۔بھلا کہیں شیر بھی سیکھتے ہیں ؟ ہم شیروں کی اولاد ہیں ، بندروں کی اولاد نہیں۔سیکھنا ہمارا کام نہیں۔میں نے کہا۔حضرت! تشبیہوں سے تو کام نہیں چلتا۔باز سیکھ جاتے ہیں لیکن کوے نہیں سیکھتے۔وہ اس قدر ناراض ہوئے کہ علاج موقوف کر دیا۔(۲۴) مئی ۱۹۰۹ء) ایک مرتبہ میرے دل میں کسی گناہ کی خواہش پیدا ہوئی۔میں نے بہت سی حما نگیں لے کر اپنی ہر ایک جیب میں ایک ایک حمائل رکھی۔ایک حمائل ہاتھ میں رکھنے کی عادت ڈالی بسترے پر۔سامنے الماری پر۔مکان کی کھونٹیوں پر۔غرض کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں قرآن سامنے نہ ہو۔پس جب وہ خیال آتا تو قرآن سامنے ہوتا کہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔یہاں تک کہ نفس تنگ ہو گیا اور اس گناہ کا خیال ہی جاتا رہا۔(۲۶) مئی ۱۹۰۹ء) ایک مرتبہ میں نے رمضان کے مہینہ میں بحالت بیماری روزے رکھنے شروع کئے۔تو میری دستوں کی بیماری رفع ہو گئی۔میں نے سمجھا کہ یہ روزے تو اکسیر ہیں لیکن بعد میں میں نے دیکھا کہ میری قوت رجولیت بالکل جاتی رہی۔میں نے سمجھا کہ بیماری کی حالت میں روزے رکھنا ایک غلطی تھی، اس کی سزا ہے۔اٹھارہ یا انیس دن تک خوب توبہ کی تب وہ کیفیت دور ہوئی۔ار جولائی ۱۹۰۹ء) ایک بڑا آدمی تھا۔وہ لاہور کا رہنے والا نہیں تھا۔لاہور میں وہ اور میں دونوں باتیں کرتے ہوئے بازار میں ہو کر گزرے۔اس نے کہا کہ دوزخ کے عذاب کو آپ غیر مقطوع