مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 290
۲۹۰ مولوی ہو ؟ میں نے کہا نہیں۔وہ خاموش رہ گیا۔بات یہ تھی کہ وہ مجھ پر دروغ حلفی کا مقدمہ قائم کرنا چاہتا تھا یعنی میں اگر کہتا کہ میں مولوی ہوں تو وہ مجھ سے کہتا کہ سار ٹیفکیٹ دکھاؤ۔پنجاب یونیورسٹی میں امتحان ہوتا ہے جس میں مولوی۔مولوی عالم - مولوی فاضل کی سندیں لوگ حاصل کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ میں نے یہ امتحان نہیں دیا۔اور مولوی سے وہی یونیورسٹی کا سند یافتہ مولوی مراد لیا جاتا۔میں اس کی اس منصو بہ بازی کو فور افراست سے سمجھ گیا تھا۔(۵ار مارچ ۱۹۱۲ ء بعد نماز جمعہ مولوی محمد علی صاحب سے مخاطب ہو کر) لباس میں میں نے ترقی نہیں کی جب سے ہوش سنبھالا ہے اسی قسم کا لباس پہنتا ہوں۔(۲۶) مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص میرے پاس آیا۔بوڑھا، حاجی ، آتشک کا مارا ہوا۔مجھ کو کامل یقین ہو گیا کہ اس کو آتشک ہے لیکن میں حیرت میں غرق ہو گیا کہ یہ حاجی بھی ہے۔بوڑھا بھی ہے اور بہت نیک آدمی ہے اور پھر یہ مرض ! مجھ کو نہایت متفکر اور حیرت زدہ دیکھ کر وہ کہنے لگا کہ آپ کیوں اس قدر حیران ہیں؟ میں نے کہا۔میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ سوائے زنا کے کوئی دوسرا سبب آتشک کا نہیں ہو سکتا۔کہا ذرا سوچ کر بتا ئیں کہ کوئی اور سبب بھی ہو سکتا ہے ؟ میں نے کہا صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے وَلا تَرُ كَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ کہا کہ ہاں بس یہی بات ہے۔میرے بڑھاپے کی وجہ سے میری بیوی بد کار ہے۔میں نے اس کو چھوڑا نہیں۔(۲۹/مئی ۱۹۰۹ء) میں نے لاہور میں ایک لیکچر سنا۔لیکچرار نے کہا کہ میں حساب کے امتحان میں فیل ہو تا رہا۔