مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 289

۲۸۹ (۲۷ / جنوری ۱۹۱۰ء) بعض آدمی لباس ہی کے بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔میں جب ریاست بھوپال میں تھا تو وہاں کے شاہی خاندان میں ایک شادی تھی۔میرے ایک وہاں کے شاگر د تھے جو اب بھی وہاں اچھے عہدہ پر ہیں۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم بھی چلیں گے۔میں نے کہا۔اچھا۔وہ گھر سے کپڑے بدل کر آئے جو بڑے ہی زرق برق تھے۔یہ معلوم ہو تا تھا کہ ان میں سونا ہی سونا ہے۔وہ جب آگئے تو مجھ سے کہا کہ آپ نے کپڑے نہیں بدلے۔میں نے کہا کہ بھائی ہمارا دوست ہدایت اللہ تو کہیں مکان بند کر کے چلا گیا ہے۔چنانچہ ویسے ہی چل کھڑے ہوئے۔جب پہلی ڈیوڑھی پر پہنچے تو وہ آگے تھے اور میں پیچھے۔دربان نے ان کو روکا۔میں آگے بڑھ کر گیا اور دربان سے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ ہیں۔اس نے کہا اچھا۔میں نے دربان سے کہا کہ تو ان کے لباس کو نہیں دیکھتا۔اس نے کہا کہ لباس کا کیا ہے۔کرایہ پر اس سے بھی اچھا لباس ہر شخص کو مل سکتا ہے۔آگے گئے تو وہاں معلوم ہوا کہ اس وقت خاص دربار ہے۔سوائے خاندان کے خاص خاص اور چند آدمیوں کے کوئی نہیں جا سکتا۔مجھ کو تو دربان نے کہا کہ آپ اندر تشریف لے جائیں لیکن ہمارے ان ہمراہی کو وہیں دالان میں بٹھالیا جہاں پہلے سے اور بھی رؤساء بیٹھے ہوئے تھے۔غرض کہ میں اپنے اسی سادہ اور معمولی لباس سے اس خاص دربار میں بلا روک ٹوک چلا گیا۔(۲۲ جون ۱۹۱۲ء ۱۲ بجے دن کے مکان پر ) مجھے کو میووں میں سات میوے بہت پسند ہیں جن میں چار تو ہندوستان سے باہر کے ہیں اور تین ہندوستان کے کھجور - انگور - انار - سیب- آم۔کیلا جو چھوٹا ہوتا ہے۔سنگترہ۔(۸) جنوری ۱۹۰۷ء) ایک مرتبہ میں ایک کچھری میں بغرض ادائے شہادت گیا۔وکیل نے سوال کیا کہ تم