مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 288
۲۸۸ (۵ار جنوری ۱۹۱۲ء) میں نے مختلف اضلاع کے جیل خانوں کے داروغوں سے دریافت کیا ہے۔معلوم ہوا کہ قیدیوں میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔میں نے ایک شہر کے جیل خانہ میں معلوم کیا تو کل قیدی ۳۳۵ تھے۔جن میں صرف ۱۳ ہندو اور ۳۲۲ مسلمان تھے اور اسی ضلع کے مدرسوں میں کل ۱۴۰۰ا لڑکے پڑھتے تھے جن میں صرف ۱۴ مسلمان اور ۱۳۸۶ ہندو تھے۔تم غور کرد اور سوچو۔خدا تعالیٰ سے استغفار کرو اور ڈرو۔(۲۰ / جنوری ۱۹۱۲ء) ایک نوجوان کو میں نے دیکھا کہ اس کے یہاں فسق و فجور بہت ہی ہو تا تھا اور رات دن ہنسی مذاق ، دل لگی ہوتی رہتی تھی۔اگر چہ وہ میرا راستہ نہ تھا۔لیکن میں پھیر کھا کر بھی اسی طرف کو جاتا اور کوئی ان کا ملازم ذرا جھوٹ موٹ بھی کوئی بات کرتا تو میں تھوڑی دیر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگتا۔میری وہاں بہت بڑی وجاہت تھی۔پھر کسی وجیہ آدمی کا اس طرح کھڑے ہو جانا معمولی بات نہ تھی کہ بے اثر رہے۔رفتہ رفتہ وہاں واقفیت اور تعلق بڑھ گیا۔ایک دن دوپہر کے وقت ان کا ایک آدمی آیا۔میں سمجھ گیا کہ آج نکتہ حل ہونے لگا ہے۔اس آدمی نے آکر کچھ نہ کہا اور خاموش کھڑا رہا۔میں نے اس کو دیکھ کر خود ہی کہا۔چلو اور فورا اٹھ کر چل کھڑا ہوا۔وہ بھی میرے ساتھ ساتھ خاموش اور شر میں صورت بنائے ہوئے چلا۔وہاں پہنچے۔میرے جا کر بیٹھنے کے بعد رفتہ رفتہ تمام حاضرین چلے گئے۔صرف میں اور وہ رکیں تنہا رہ گئے۔میں نے کہا۔فرمائیے۔وہ کچھ کہتے ہوئے رکا۔میں نے بڑی جرات کے ساتھ اس کے کچھ کے بدوں اس کا کمربند کھول دیا۔دیکھا تو عضو تناسل کا بڑا حصہ آتشک کے زخم سے گلا ہوا تھا۔تب مجھ کو معلوم ہوا کہ اس خوشی کے شور میں یہ رنج ہے۔خدا تعالیٰ بے وجہ کسی کو نہیں پکڑتا۔