مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 280 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 280

۲۸۰ دعوی کیا ہے کہ یہ خاص قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے اور چونکہ نبی کریم قریش مکہ میں سے تھے ، دوسروں کی زبان نہیں بول سکتے تھے۔اس کتاب میں یہی ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن میں فلاں لفظ فلاں زبان سے اور فلاں لفظ فلاں زبان سے آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص قریش میں سے نہ تھے اور قرآن شریف بھی خاص قریش کی زبان میں نہیں ہے۔میں نے کہا۔دیکھو میں بھیرہ کا رہنے والا پنجابی آدمی ہوں اور اردو بولتا ہوں تو کیا اس سے میرا پنجابی ہونا باطل ہو جائے گا؟ اور پھر قرآن شریف میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ خاص قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔اس پر وہ خاموش ہو کر سوچنے لگا اور کہا کہ آپ ہی بتائیں کہ آیا قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت ہے یا نہیں جس میں لکھا ہو کہ یہ قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے ؟ میں نے کہا کہ یہ نہیں لکھا بلکہ وہاں تو صرف یہ لکھا ہے۔بِلِسَانٍ عَرَبِي مُّبِينٍ یہ سن کر مجھ سے کہنے لگا کہ آپ نے اس کتاب کا ستیا ناس ہی کر دیا۔ہندو - دہریہ (۱۳/ نومبر ۱۹۰۵ء) میں نے ایک رئیس کو جو بوڑھا آدمی تھا ایک مرتبہ رات کے وقت ناچتے ہوئے دیکھا۔صبح کو اس مکان میں میں نے جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سانپ کی ایک مورت کسی دھات کی بنی ہوئی ہے۔میں نے اس کو انگلی سے ٹھو کا دیا تو اس میں سے جھنکار کی آواز دیر تک نکلتی رہی وہ آواز سن کر وہ رئیس جو قریب کے مکان میں تھا آگیا اور کہا رام رام یہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ میں نے اس کو بہت شرمندہ کیا۔غرض مشرک اعلیٰ درجہ کا بیوقوف ہوتا ہے۔