مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 273 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 273

بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ یہ مال ان لوگوں کا ہے جو بعد میں آئیں گے۔اے ہمارے رب! ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی مغفرت فرما جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں کسی مسلمان کی نسبت کوئی کھوٹ نہ ہو۔اب بتاؤ کہ جو اپنے آپ کو حقدار سمجھتے ہیں یعنی شیعہ وہ اگلے صحابہ کے حق میں دعا مانگتے اور مغفرت چاہتے ہیں یا ان سب کو تبرہ بھیجتے ہیں؟ قرآن کریم تو کہتا ہے یہ ان کا حق ہے جو تبرہ نہیں بھیجتے۔(۳۱) جنوری ۱۹۱۲ء) ایک شیعہ نے مجھ سے کہا کہ یہ قرآن تو چپ کتاب ہے (اس کے الفاظ تھے کتاب صامة) اور حضرت علی کرم اللہ وجہ ناطق کتاب تھے۔میں نے کہا کہ یہ کتاب تو کہتی ہے کہ میں بولتی ہوں۔هَذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ (الجافیہ)۔اور اگر حضرت علی ناطق ہیں تو ان کی آواز میرے کان میں پہنچو اؤ تو سہی۔عیسائی (۲۴ / جولائی ۱۹۰۷ء) بمبئی میں ایک شخص سید حسین پیدل جا رہے تھے۔ایک عیسائی کو دیکھا کہ بگھی پر آرہا ہے۔اس نے ان کو سلام کیا۔انہوں نے بگھی رکوا کر کہا کہ گھوڑے میں زیادہ طاقت ہے یا تم میں ؟ اس نے کہا گھوڑے میں۔انہوں نے کہا انسان نے جس کو اپنے آپ سے زیادہ طاقتور دیکھا اسی کو قابو کر لیا مگر تم نے خدا کو دیکھا او ر مان لیا اور اس کو قابو نہ کیا۔(۲۳ / دسمبر ۱۹۱۱ء) ایک مرتبہ ایک عیسائی سے میری ملاقات ہوئی۔میں نے اس سے کہا کہ زنا تم کرتے ہو تو